کانگریس حکومت آنے کے بعد تبدیل مذہب بل کو منسوخ کیاجائیگا :سدارامیا

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔کرناٹک میں حزب اختلاف کے رہنما اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ 2023 میں اقتدار میں واپس آتے ہیں تو ایک ہفتے کے اندر تبدیلی مذہب مخالف بل واپس لے لیا جائے گا۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا، ”کانگریس اقتدار میں آنے کے ایک ہفتہ کے اندر یا ریاستی مقننہ کے پہلے اجلاس میں تبدیلی مخالف بل کو منسوخ کردے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔”واضح ہو کہ کانگریس لیڈر کئی ریاستوں میں تبدیلی مذہب مخالف بل کی مخالفت کر رہے ہیں۔ کرناٹک میں بھی ایسا ہی ہے۔ اس بل کی مخالفت بھی ہو رہی ہے۔ تاہم یہ بل قانون ساز کونسل میں پیش ہونا باقی ہے۔سدارامیا کہتے ہیں ”میں نے بھی جبری تبدیلی کی مخالفت کی تھی اور جبری تبدیلی کو روکنے کے لیے آئین میں دفعات موجود ہیں، تو اس کے لیے الگ قانون لانے کی کیا ضرورت تھی؟ تمام باشعور لوگوں کو تبدیلی مذہب مخالف بل کی مخالفت کرنی چاہیے۔ یہ پھیلایا جا رہا ہے کہ بدھ مت، جین مت، لنگایت اور سکھ مت سبھی ہندو مت کا حصہ ہیں۔ یہ ایک خطرناک پیش رفت ہے کیونکہ یہ مذاہب ویدک مذہب کی مخالفت میں بنائے گئے تھے اور اب بھی ان معلومات کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔قابل ذکر ہے کہ بومئی حکومت کی طرف سے جو بل لایا جا رہا ہے اس کا نام ‘کرناٹک پروٹیکشن آف رائٹ ٹو فریڈم آف ریلیجن بل 2021’ ہے۔ اگر حکومت اس بل کو منظور کروانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو غیر قانونی تبدیلی کے ملزموں کو 10 سال تک کی سزا ہو گی۔ اس کے علاوہ پانچ لاکھ روپے تک کا جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ریاست میں مذہب کی تبدیلی کا کوئی قانون نہیں ہے۔