شکاری پور:۔ محمد ضیاء الدین ای ۔سی ممبر الامین ایجوکیشنل سوسائیٹی بنگلور، سکریٹری الامین سوسائیٹی گلبرگہ کے ہمراہ وفد کی شکل میں گلبرگہ سے کئی لوگ تشریف لائے ۔ تشریف لانے والوں میں ایس کے کانتا ،سابق لیبر منسٹر حکومت کرناٹک کے علاوہ عبد الرحمن سیٹھ اوراسلم کلیانی سابق کارپوریٹر بھی شامل تھے ۔ یہ تمام حضرات ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کو بال ساہتیہ پرسکار کی مبارکباد دینے اور اعزاز کرنے کی غرض سے تشریف لائے تھے ۔ اس موقع سے گلشنِ زبیدہ کے اساتذہ اور طلبا ء نے ایک نہایت شاندار اعزازی جلسے کا انعقاد کیا ۔ اور مہمانوں کا شاندار طریقے سے استقبال کیا ۔ اور بچوں نے ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی رباعیوں پر مشتمل رباعی بازی کا مظاہرہ کیا ۔ گلبرگہ سے تشریف لائے مہمانوں نے نہایت خلوص اور فخر و انبساط کے ساتھ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کا اعزاز کیا ۔ بعد ازاں سابق لیبر منسٹر جناب ایس،کے کانتا صاحب نے اپنی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ بھلے سے ہمارا وفد شیموگہ کسی اور کام سے آیا تھا ۔ مگر شکاری پور آکر اور بطور خاص دیارِ حافظ میں حاضرہوکر ایسا لگا کہ ہمیں دراصل سب سے پہلے یہیں آنا چاہیئے تھا ۔ میں نے حافظؔ کرناٹکی کے ادارے کو دیکھا ۔ اساتذہ اور بچوں سے باتیں کیں ۔ ان کے ادبی اور کلچرل مزاج کو پرکھا ۔ تو ایسا لگا کہ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے ایک ایسا تعلیمی ادارہ قائم کیا ہے جہاں انسانیت، یکجہتی، محبت اور وطن دوستی کی برسات ہوتی ہے ۔ ان کی شاعری بھی انسانیت اور محبت کے درس سے لبریز ہے ۔ یہاں بچوں کو امتحان پاس کرانے یا نوکری حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ انسان بنانے اور انسانیت کو عام کرنے کے لئے پڑھایا جاتا ہے ۔ یہی خواب تھا مہاتما گاندھی اور ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا ۔ سچ پوچھئے تو ایسے ہی اداروں سے ملک کا مستقبل روشن ہوتا ہے ۔ میں ایک بار پھر ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کو قومی ادبِ اطفال ایوارڈ اور اتنا شاندار تعلیمی ادارہ چلانے پر دلی مبارکبا پیش کرتا ہوں ۔محمدضیاء الدین نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب یہ اطلاع ملی کہ ڈاکٹر حافظؔکرناٹکی کو قو می ادب اطفال ایوارڈ ملا ہے تو بے سا ختہ دل چا ہا کہ ان سے مل کر انہیں مبارکباد دوں ۔حافظؔکرناٹکی ہمارے رہنما ہیں ۔ وہ الامین ایجوکیشنل سوسائیٹی کے وائس چیرمین ہیں ۔ اور بہت ہی مشہور ومعروف شاعروادیب ہونے کے ساتھ نہایت فعال اور مخلص فلاحی کارکن اور سما جی خدمت گارہیں ۔ ان کے کاموں کا دائرہ بہت وسیع ہے اس وقت بائیس ریاستوں میں ان کا فلاحی کام جاری ہے ۔ ہم ان پر بجا طور سے فخر کرسکتے ہیں ۔ ان کا اپنا تعلیمی ادارہ بھی ہر طرح مثالی ہے میں دیار حافظؔمیں آکر بہت خوش ہوں ۔ یہاں ہم نے جو عزت پائی وہ اس سے بھی بڑھ کرہے کہ ہم نے گلبرگہ کی طرف سے ڈاکٹر حافظؔکرناٹکی کا اعزاز کیا ۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ اسی طرح خدمات انجام دیتے رہیں ۔عبدالرّحمن سیٹھ نے بھی حافظؔکرناٹکی کو بال ساہتیہ پرسکار ملنے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ واقعی آپ کی ساری خدمات لائق تعریف ہیں اسلم کلیانی صاحب نے بھی حافظؔکرناٹکی کو مبارکباد دی۔ اور ان بچوں کی تعریف کی جنہوں نے بیت بازی کا مظاہرہ کر کے گلشن زبیدہ کی تربیت کا ثبوت پیش کیا ۔ ڈاکٹر حافظؔکرناٹکی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ میرے لیے نہایت مسرت اور فخر کی بات ہے کہ ہمارے درمیان ایک ایسے روشن خیال سیکولر مزاج لیڈرمو جود ہیں۔ جن کا ذکر میں رام کر شن ہیگڑے جی کے زمانے سے سنتا آرہا ہوں ۔ میری مراد سابق لیبر منسٹر ایس کے کا نتا سے ہے ۔ ان کی با تیں سن کر اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ جب تک ایسے روشن خیال اور وسیع القلب لیڈر اس ملک میں موجود ہیں یہاں کا امن دامان کبھی ختم نہیں ہوگا ۔ آپس کی محبت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی ۔ایس کے کا نتا آج بھی فعال ہیں گلبرگہ میں نہایت کامیابی سے تعلیمی ادارے چلاتے ہیں ۔ میں چاہتا ہوں کہ ایسے مخلص لو گوں کو سبھی ادارے والے بلا ئیں اور ان کی با تیں سنیں ۔ اس طرح دلوں کی گر د صاف ہو جا ئے گی ۔ میں محمد ضیاء الدین کا بے حد ممنون ہو ں کہ انہو ں نے اتنی اہم شخصیات کے ساتھ یہاں تشریف لاکر مجھے اعزاز سے نوازا اور میری عزت افزائی کی ۔ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے مزید کہا کہ کتابیں تو کہیں بھی مل جاتی ہیں مگر ایس، کے کانتا جیسے روشن ضمیر بہت کم ملتے ہیں ۔ اس لیے ان کے تجربوں سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہیئے ۔ محمد ضیاء الدین بھی فعّال اور متحرّک شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ مشکل سے مشکل کاموں کو اپنی محنت اور لگن سے آسان بنادیتے ہیں ۔ میں تمام لوگوں کیلئے ممنونیت کا اظہار کرتا ہوں ۔ یہ پروقار تقریب انیس الرحمن سکریٹری ایچ، کے، فاؤنڈیشن کے شکریہ کے ساتھ اختتام کو پہونچی ۔
