میگان اسپتال میں جاری بدنظمی کی جامع تحقیقات کی جائے : پرسننا کمار

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔میگان اسپتال میں جاری بدنظمی اورغیر اطمینان بخش انتظامات، سمس ڈائریکٹر کی تقرر، لکچررس اورپرنسپل عہدوں کیلئے انٹرویو اور لین دین کے معاملے میں جامع تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس بات کا مطالبہ رکن اسمبلی کے بی پرسننا کمار نے کیا ہے۔ انہوں نے آج نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دسمبر کے مہینے میں 17اسسٹنٹ لکچررس اور8 ڈاکٹروں کی تقرر ی کے متعلق انٹرویو لیا گیا ۔ اس دوران بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہونے کا انکشاف ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوویڈ کی2 لہر کے دوران میگان اسپتال میںقریب 4500 کوویڈ مریضوں کا رجسٹریشن ہواتھا اوراس تعداد میں 1400 افراد کی موت ہوجانے کی اعداد خود اسپتال نے دی ہے۔ یہ تعداد اب دوگناہ ہونے کی ممکنہ امکانات ہیں ۔ چونکہ میگان اسپتال میں کام کرنے والے بہت سے ڈاکٹر س صرف حاضری ڈال کر پرائیویٹ کلینک میں چلےجاتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کویڈ کے دوران ڈیوٹی میں لاپرواہی کے نتیجے نے اموات کی شرح میں اضافہ کیاہے۔ پرسنا کمار نے زور دیا کہ کوویڈ کی 3لہر کے دوران مریضوں کا مناسب علاج کروانے کے تیئں ضلع انتظامیہ کو توجہ دیتے ہوئے ضروری اقدام اٹھانے چاہئے ۔انہوں نے بتایا کہ سابق وزیر اعلیٰ ایس بنگارپا کی خصوصی دلچسپی سے بنایا گیا میگان اسپتال ایک طویل عرصے سے اپنی بہترین خدمات کیلئے جانا جاتا ہے۔ لیکن کچھ حالیہ پیش رفت نےاسپتال کانام خراب کیا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ اس بدنظمی کے پیچھے سمس کے ڈائریکٹر اور ضلعی نگران  وزیر ہی براہ راست ذمہ دار ہیں۔پریس کانفرنس میں شیام سندر، منجوناتھ، راگھو، سورنا ناگراج اور دیگر موجود تھے۔