ریاست میں فرقہ وارانہ ماحول پر جماعت اسلامی ہند نے تشویش کااظہارکیا

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر

بنگلور:۔جماعت اسلامی ہند کرناٹک کی جانب سے حجاب ، سوریہ نمسکار ، نرگند اور دیگر مقامات پرہورہے فرقہ وارانہ واقعات کی سخت مذمت کرتے ہوئے پریس کانفرنس منعقدکی گئی تھی جس میں جماعت اسلامی ہند کرناٹک کے امیر حلقہ – ڈاکٹر محمد سعد بلگامی نے ریاست کے مختلف مسائل پر روشنی ڈالی۔انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ اُڈپی کے مذکورہ کالج کے انتظامیہ نے مسلم لڑکیوں کو 31 دسمبر 2021 کو کلاسز میں شرکت کے دوران حجاب نہ پہننے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے نتیجے میں مسلم لڑکیوں اور انتظامیہ کے درمیان ناراضگی اور کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ لڑکیوں کو آج تک کلاسوں سے باہر رکھا جا رہا ہے۔لباس کے انتخاب کا حق، اپنے مذہبی عقیدے پر عمل کرنا ایک بنیادی اور آئینی حق ہے جس سے کسی فرد کو محروم نہیں کیا جا سکتا۔ حجاب باوقار لباس کی ایک قدیم شکل ہے جو مسلمانوں اور مختلف ناموں سے مختلف دوسرے گروہوں کے پاس بھی رائج ہے۔ یہ شناخت اور ترقی کی راہ میں کبھی رکاوٹ نہیں رہا۔ اڈپی میں طالبات کو اس سے محروم کرنا اور اس کے نتیجے میں ان کے وقار اور تعلیم کے حق سے انکار کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ واضح رہے کہ 2016 میں کیرالہ ہائی کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں اس حق کو محفوظ کیا ہے۔اس لیے ہم متعلقہ انتظامیہ، حکومت اور وزیر تعلیم سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کو بے ضابطگی کے معاملے کے طور پر نہیں بلکہ ایک بنیادی حق اور ہمارے معاشرے کے تنوع کے احترام کے طور پر دیکھیں۔ لڑکیوں کو حجاب پہننے کی اجازت دی جائے اورطالبات کوکلاسوں میں ان کو بحال کیاجائےاور اس معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔مزید پریس کانفرنس میں بتایاگیاکہ مرکزی حکومت نے 73 ویں یوم جمہوریہ کی تقریبات پر ہدایات جاری کی ہیں کہ پورے ملک میں موسیقی کے ساتھ سوریہ نمسکار کرنے کے خصوصی پروگرام منعقد کیے جائیں۔ یہ منصوبہ 30 /ریاستوں، 30000 / اداروں میں 3 /لاکھ طلباء کو شامل کرکے 75 /کروڑ سوریہ نمسکار کا ہدف حاصل کرنا ہے۔ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ سوریہ نمسکار ایک مذہبی عقیدہ کی بنیاد پر یوگا کا حصہ ہے جس میں سورج کو سجدہ کرنا اور بھجن شامل ہے۔ اسلام کسی بھی مخلوق کی عبادت سے سختی سے منع کرتا ہے اور اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ یہ صرف پوری کائنات کے خالق اللہ کے لیے جائز ہے۔ مسلمانوں کو حضور اکرم ﷺ کی پیاری ہستی کو بھی سجدہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہمیں سورج کی عبادت سے مشابہت کے شبہ سے بچنے کے لیے طلوع یا غروب کے وقت پر نماز (جس میں سجدہ بھی شامل ہے) پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔لہٰذا مسلمان بچوں سے سوریہ نمسکار میں شرکت کی توقع رکھنا یا ان کو مجبورکرنا،ان کے بنیادی اور آئینی حق کی خلاف ورزی ہو گی۔ حکومت کو ایک کمیونٹی کے مذہبی رسومات کو دوسرے پر تھوپنانہیں چاہئے کیونکہ یہ سیکولر اصولوں کی خلاف ورزی اور مساوات، انصاف اور آزادی کی روح کے خلاف ہے۔ہم مسلمان والدین اور بچوں سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس مشرکانہ عمل میں ہرگزحصہ نہ لیں۔ یہ بچوں کو خدا کی وحدانیت کے تصور اور اس کے تقاضوں کو سمجھنے اور سمجھانے کا موقع بھی ہونا چاہیے۔ ہم اسکولوں اور اداروں کی انتظامیہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس تنوع اور انتخاب کی آزادی کا احترام کریں۔جماعت اسلامی ہند کرناٹک، نرگندمیں ہوئے حالیہ پرتشدد واقعات کی مذمت کرتی ہےجس کے نتیجے میں ایک مسلم نوجوان کی موت ہوئی اور ایک دوسراشدید زخمی ہوا۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران صورتحال متاثر رہی ہے اور اس پر بہت پہلے قابو پا لیا جانا چاہیے تھا۔ عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر حملوں، مورل پولیسنگ، مساجد کے بارے میں بے بنیاد تنازعات اور الزامات لگانے وغیرہ کی صورت میں گزشتہ چند مہینوں کے دوران متعدد واقعات رونما ہو ئے ہیں۔ ہم پولیس اور انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ شرپسند عناصر کو اس کی اجازت نہ دیں۔ ہماری ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب ہونے نہ دیں ۔حالات کو سیاسی رنگ دینے اور بگاڑنے کی کوشش کرنے والے عناصر سے سختی سے نمٹیں۔ متنازعہ تبدیلئ مذہب مخالف بل نے بھی ماحول کو خراب کیا ہے ،اس پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے اور اسے آگے نہ بڑھایا جائے بلکہ اس کو منسوخ کردیا جائے۔