دہلی: کورونا وائرس کو مات دینے کے لئے ملک میں ٹیکہ کاری مہم جاری ہے تاہم متعدد ریاستوں سے ویکسین کی کمی کی بھی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ لہذا حکومت کی کوشش ہے کہ ان لوگوں کو ویکسین پہلے دے دی جائے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اسی ضمن میں کورونا ویکسین سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کا امکان ہے، جس کے بعد اگر کوئی شخص کورونا کا شکار ہونے کے بعد شفایاب ہو جاتا ہے تو اسے ویکسین کیلئے 9 مہینے کا انتظار کرنا پڑیگا۔آج تک پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق نیشنل ایکسپرٹ گروپ آن ویکسین ایڈمنسٹریشن (این ای جی وی اے سی) کی جانب سے جلد ہی اس پر فیصلہ لیا جا سکتا ہے۔ گروپ نے سفارش کی ہے کہ شفایابی کے نو مہینے بعد ٹیکہ لگانے کی اجازت دی جائے۔ خیال رہے کہ حال ہی میں شفایابی کے 6 مہینے بعد ٹیکہ لگانے کی اجازت دی گئی تھی لیکن اب اس وقت کو نو مہینے کیا جا ستا ہے۔ایکسپرٹ گروپ کی جانب سے حقائق کے پیش نظر یہ سفارش کی گئی ہے۔ ہندوستان میں کورونا کی پہلی لہر کے دوران دوبارہ انفیکشن کی شرح 4.5 فیصد تک پائی گئی تھی، اس دوران 102 دن کا فرق بھی ظاہر ہوا تھا۔ وہیں، کچھ ممالک میں کی گئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ کورونا سے متاثر ہونے والے شخص میں 6 مہینے تک قوت مدافعت باقی رہ سکتی ہے، لہذا ٹیکہ کے لئے اتنا وقفہ ضروری ہے۔حالانکہ، کورونا کی وبا کا دور جاری ہے، لہذا دوبارہ انفیکشن ہونے کے امکانات موجود ہیں۔ ایسے حالات میں اگر کسی کو پہلی کا دوسری خوراک کے لئے انتظار کرنا پڑتا ہے تو یہ فائدہ مند بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ خیال رہے کہ حاملہ خواتین بچے کی ولادت کے بعد ویکسین حاصل کر سکتی ہیں۔
