شیموگہ:ندیوں کو جوڑنے سے ریاست کوہونے والے مفادات کیا ہونگے اس پر تبادلہ خیال ہونا چاہئے۔ اس بات کا اظہاروزیر برائے دیہی ترقیات کے ایس ایشورپا نےکیا ہے۔انہوں نے آج اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ندی کو جوڑنے کے بارے میں کوئی بھی فکر نہیں کررہا ہے، اس پر بحث کرناضروری ہےلیکن ہم اپنی ریاست کے ساتھ ناانصافی کرنے کی اجازت نہیں دیںگے۔ ریاست کے مفادات کو قربان کرتے ہوئے اس منصوبےکو قبول کرنا ممکن نہیں ہے۔وزیر موصوف نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پہلے ہی وضاحت کر چکے ہیںکہ ندی کو جوڑنے سےہماری ریاست کو کتنا پانی ملتا ہے اس کو دیکھنے کے بعدہی اس حوالے سے آئندہ فیصلہ کیا جائے گا۔انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس لیڈر ملکارجن کھرگے، ایچ کےپاٹل اور سدرامیا کا اس معاملے میں سیاست کر نا درست نہیں ہے۔اس سے ریاست کیلئے کچھ بھی اچھا نہیں ہوگا۔بجٹ پر جواب دیتے ہوئے وزیر ایشورپا نے کہا کہ یہ ایک بہترین بجٹ ہے۔ کچھ لوگ اس کے مخالف ہیں۔ وہ سوال کر رہے ہیں کہ کرناٹک کو کیا ملا ہے؟۔ لیکن وزیر اعظم مودی نے کسی بھی ریاست کو علیحدہ علیحدہ فنڈ جاری نہیں کیا ہے۔ تقریباً 400 بھارت ٹرینیں چھوڑی جائیں گی، جو ریاست کو بھی دستیاب ہوں گی۔ بجٹ میں اعلان کیا گیا ہے کہ 80 لاکھ گھر بنائے جائیںگےلیکن کرناٹک میں گھروں کی تعمیر نہیں ہوگی بلکہ بنیادی سہولیات کو زیادہ اہمیت دی جائیگی ۔ پینے کے پانی، شمسی توانائی، روزگار پیدا کرنے اور نریگا پروجیکٹ کیلئے مزید فنڈجاری کیا جائیگا۔ ایشورپا نے واضح کیا کہ کانگریس پارٹی کے کچھ رہنماء وزیر اعظم مودی پر تنقید کررہے ہیں کہ وہ ملک فروخت کررہے ہیں۔لیکن وزیر اعظم مودی نے ملک کے تمام قرضوں کو ادا کر دیا ہے اور تقریباً 15 ممالک کو قرض دیا ہے۔اس بات کو کانگریسی سمجھ نہیں پا رہے ہیں۔
