شیموگہ:۔حجاب کے معاملے کو لیکر ریاست میں جس طرح سے افراتفری کاماحول ہے اس میں طاقت کا نہیں بلکہ حکمت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے،شرپسندوں کے بے تکے باتوں کو اچھالنے کے بجائے اگر ہم سب مل کر قانونی لڑائی لڑتے ہیں تو اس کے اچھے نتائج سامنے آئینگے۔اس بات کااظہار ضلع کانگریس کے جنرل سکریٹری عارف خان عارونےکیاہے۔انہوں نے کہاکہ اُڈپی کے حجاب کے مسئلے کو لیکر کانگریس پارٹی کی اسٹوڈینٹ ونگ نے کرناٹکا ہائی کورٹ میں پٹیشن دائرکی ہے اور ہمیں اُمیدہے کہ فیصلہ حجاب کے حق میں آئیگا۔عارف خان عارونے مزیدبتایاکہ کچھ سال پہلے شیموگہ کی سیہادری کالج میں جب حجاب کا مسئلہ پیداہواتھا اور فرقہ پرست حجاب پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیاتھا،اُس وقت کانگریس پارٹی اقتدارمیں تھی اور اُس وقت کے رکن اسمبلی پرسنناکمارنے معاملے کو بگڑنے سے روکنے کیلئے خود وائس چانسلر کے پاس جاکر باقاعدہ آرڈر کروایاتھا کہ حجاب کے مسئلہ کو نہ اٹھایاجائے،کیونکہ حجاب مسلم خواتین کا بنیادی حق ہے۔اس وقت بی جے پی کا ایجنڈا ہندوراشٹر بنانے کا ہے،ایسے میں ہمارےا حتجاجات ونعرے کوئی اثرنہیں کرینگے،بلکہ ہمیں قانونی لڑائی لڑنے کی ضرورت ہے،جو اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں اُن پر ایف آئی آر کروائی جائے اور جو مسلمانوں کو پاکستان جانے کی صلاح دے رہے ہیں اُن پر ملک سے غداری کا مقدمہ درج کیاجاسکتاہے ۔حجاب کا معاملہ بے حد حساس ہے اور اس معاملے کو اچھال کر ہندومسلم نفرت پھیلانے کی کوشش ہورہی ہے،ایسے میں ہم تمام مسلمانوں سے یہ بھی گذارش کرتے ہیں کہ پہلے ہم قانونی لڑائی لڑیں،اگر وہاں کامیابی نہیں ملتی ہے تو سڑکوں پر اُترنے کیلئے تیار ہوجائیں۔ریاست میں اس وقت ایم ایل اے الیکشن قریب ہے ، ایسے میں بی جے پی کے پاس کوئی اہم مدعہ نہیں ہے،اس لئے بی جے پی ہندومسلم فسادات کرواکر نفرت پھیلانے کا کام ہورہاہے،اس سازش کی آڑمیں مسلمان شکار نہ ہوں۔ریاست میں اس وقت فرقہ پرست حکومت موجودہے،ایسے میں اُن سے التجائیں کرنا کوئی معنی نہیں رکھتے،اُن کا مقصد ہی مسلمانوں کے بنیادی حقوق کو سلب کرنا ہے ۔اس لئے مناسب وقت دیکر مناسب فیصلے لئےجائیں۔
