آج حجاب کا مطالبہ کیا جارہا ہے کل نماز کے لئے اجازت مانگی جائے گی؛ یہ قبول نہیں :راتوں رات مشہور ہونے کے لئے ثریا انجم نے دیا بیان!!

حجاب کے معاملے کو لے کر جہاں سنگھ پریوار کے لوگ شر پھیلاکر دہشت پیدا کررہے ہیں وہیں مسلمانوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں جو راتوں رات مشہور بننے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور وہ اسکے لئے کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ ایسے لوگوں میں سے ہی کرناٹکا یوتھ کانگریس کی ترجمان ثریا انجم ہے جس کا کہنا ہے کہ مسلم لڑکیاں حجاب کوبنیاد بنا کر اپنا مستقبل خراب نہ کرلے۔ سوشیل میڈیا میں ثریا نے ایک ویڈیو جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ حجاب پہننے کا اسلام نے حق دیا ہے اور یہ میرے مذہب کی پہچان ہے اور مجھے اس پر فخر ہے ،میرے دستور نے مجھے حجاب پہننے کا حق دیا ہےلیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے مذہب کی نمائش گھر سے باہر کی جائے، ہمارے ملک نے مذہب کی آزادی دے رکھی ہے اور حجاب پہننے کے لئے دستور نے حق بھی دیا ہے لیکن دستور کی اس آزادی کا غلط استعمال کیا جارہا یہ ملک کے تعلق سے جو عزت ہے وہ کم کرنے کے برابر ہے، ہمارے آئین نے ہمیں مذہب کی آزادی دے رکھی ہے لیکن مذہب کے لئے آئین کو پامال کرنا نہیں چاہیئے، ہمیں اپنے مذہب کو گھر میں رکھ کر آنا چاہیے اور باہر بھارتیہ بن کر آنا چاہئے، میں سوال کرنا چاہونگی کہ تعلیم سے بڑھ کر کوئی مذہب نہیں، جتنا اہم مجھے میرا مذہب ہے اتنا ہی اہم میرا ملک ہے، میں ملک سے جتنی محبت کرتی ہوں اتنی ہی اہمیت مذہب کو بھی دیتی ہوں، مذہبی تعلیمات پر بھی عمل کرتی ہوں ۔ثریا نے مزید کہا کہ طالبات آج حجاب پہن کر ہی آنے کی ضد پر اڑے ہوئے ہیں جبکہ کہیےبھی کالج کے انتظامیہ نے کہہں نہیں کہی ہےکہ حجاب نکال کر آئیں بلکہ یہ کہا کہ کلاس روم میں حجاب یا برقعہ پہن کر نہ آئیں۔ اگر ایسا کیا جائے تو یونیفارم متاثر ہوگا۔ ین آر سی کے موقع پرسب مل کر تھے تو اب کیا ہوا، حجاب ڈال کر جائیں لیکن کلاس روم سے باہر نکال جائیں، یہ قانون ہے اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ طلباء اس ملک کے مستقبل ہے۔ اگر طالبات یہ کہتی ہیں کہ ہندو مذاہب کے اسٹیکرز لگاکرآتے ہیں، انہیں کیوں نہیں پوچھا جاتا، جبکہ یہ سوال پوچھا نہیں جاسکتا کیونکہ یہ زیبائش کی چیزیں ہیں، اس لئے سوال نہیں کیا جاسکتا ۔ جن تعلیمی اداروں میں حجاب کی اجازت دی جاتی ہے وہاں مسلمان داخلہ لیں، اور جن تعلیمی اداروں میں حجاب کے لئے اجازت نہ دی جاتی ہے وہاں داخلہ لینا مناسب نہیں ہے۔ آج حجاب کا مطالبہ کیا جارہا ہے کل نماز کے لئے اجازت مانگی جائے گی۔ اس طرح سے مطالبات میں اضافہ ہوگا۔ پہلے ملک ہے بعد میں مذہب ہے۔ ملک کے دستور کا احترام کریں ۔
