پردہ دستوری حق ہوتے ہوئے اسلامی شعار بھی ہے،حجاب تنازعہ پر علماء کی قیادت ضروری: ٹارگیٹ اسلم

اسٹیٹ نیوز
داونگیرے:۔ پردہ اسلامی شعار ہے اور دستور میں عورتوں کو دیا گیا حق بھی ہے،مگر کچھ دن سے فرقہ پرست عناصر اس کو  تنازعہ کی شکل دیکر اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور یونیفارم کے نام پر قوم کی بیٹیوں کے سر سے چادر چھینے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔اس بات کا اظہار ٹارگیٹ سکیوریٹی کے مالک اورکرناٹکا ہتہ رکشنا ویدیکے کے بانی و ریاستی صدر ٹارگیٹ محمد اسلم نے کیاہے۔انہوں نے ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ ملک کی عظیم خواتین جن میں سابق صدر جمہوریہ پرتبھا دیوی پاٹل ،سابق وزیر اعظم اندراگاندھی ، معروف سماجی کارکن مدرٹریسا،ملک کی پہلی خاتون معلمہء فاطمہ شیخ ،کتور رانی چنما وغیرہ خواتین اپنے سر پر ہمیشہ  پلوُ ڈالے ہوئے دیکھے گئے ہیں ،عورت اپنے سر پر دوپٹہ ڈالنے کو ہی اپنی آن سمجھتی ہوئی آئی ہیں اور اسکولوں وکالجوں میں جو یونیفارم ہوتا ہے ، اُسی رنگ سے منسلک ایک اُوڑھنی  بھی لڑکیاں اپنے سر پر ڈالتی ہیں ،اگر لڑکیا ں یونیفارم کے ہی رنگ سے منسلک ایک کپڑا اپنے سر پر ڈالنے سے یونیفارم کی خلاف ورزی ہوتی ہو تو تمام طلباء کا نام بھی ایک ہی ہونا چاہیے نا کہ مسلم لڑکیوں کا نام حسینہ بانو ،سمینہ بانو ، شہجہان بانو، اور غیر مسلم بہنوں کا نام وینا ، کویتا ، لکشمی، سروجہ ، ہونے سے کیا یونیفارم کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ۔ ان حالات میں مسلم سیاسی قائدین انصاف پسند غیر مسلم سیاسی قائدین سے برابر رابطہ میں رہ کر حتی ا لمقدور کوششوں میں لگے ہوئے ہیں پھر بھی مسلم قوم میں آئے دن حسد ایک خطرناک وبا بنا ہوا ہے۔ پردہ دستور ہند میں عورتوں کا حق ہوتے ہوئے اسلامی شعار بھی ہے علمائے کرام سےگذارش ہے کہ ملّی قائدین کے حوصلہ کو برقرار رکھنے میں آپ کا کردار ضروری ہے ،آپ کے میدان عمل میں آنے ملی سیاسی قائدین کو حوصلہ بھی ملے گا اور اتفاق بھی پیدا ہوگا ،ویسے روزانہ کی معلومات سے یہ بات عیاں ہے کہ ریاست میں تمامی مکتب ِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء اس سلسلے میں کہیں نا کہیں کمان سنبھالے ہوئے نظر آرہے ہیں یہ ہمارے لئے ریاست کی مسلم و انصاف پسند غیر مسلم بھائیوں کیلئے بھی باعث شرف ہے ،مگر سوشیل میڈیا پر کچھ لڑکیوں کی یہ فریاد کہ ہم آخر ی مرحلہ تک اس محاذ پر ڈٹے رہیں آپ کے تعاؤن کی ضرورت کی اپیل جو اُن لڑکیوں نے کی اور یہاں تک اُن لڑکیوں نے بالخصوص علماء سے کہا کہ اگر پردہ یعنی حجاب کی ضرورت نہیں تو مساجد میں اعلان کرادیں ہم یا تو بغیر پردے حجاب کے اسکولوں وکالج جائیں یا پھر اپنی تعلیم منقطع کرلیں گے ۔جو فرقہ پرستوں کی ہمیں تعلیم سے دور رکھنے کی کوشش ہے وہ کامیاب ہو،ایسے میں ملت میں اتفاق کو قائم رکھنے پردہ اسلامی شعار ہوتے ہوئے  عدلیہ کو پردہ  یعنی حجاب کی  اہمیت و افادیت کو واضع کرنے وکلا سے علماء کا تعلق ضروری  علماء سیاسی قائدین کی ریڑھ بنیں قوم علماء کے ساتھ رہے گی ۔