حجاب ہمارا آئینی حق ہے؛ہائی کورٹ کے عبوری احکامات کو غلط پیش کیاجارہاہے:طاہر حسین

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر

شیموگہ:۔حجاب ہمارا آئینی حق ہے اور اس حق کو حاصل کرنا ہماراآئینی فریضہ بھی ہے۔کرناٹکا ہائی کورٹ کے عبوری احکامات کا غلط استعمال کرتے ہوئے ریاست بھرمیں حجاب کو لیکر طالبات کو پریشان کرنے کا کام کیاجارہاہے۔اس بات کااظہارویلفیر پارٹی آف انڈیا کے ریاستی صدر اڈوکیٹ طاہر حسین نے کیاہے۔انہوں نے اپنےشیموگہ دورے کے دوران روزنامہ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ کرناٹکا ہائی کورٹ نے عبوری احکامات جاری کرتے ہوئے کہاکہ صرف سی ڈی سی کے ماتحت آنے والی کالجوں پر یہ احکامات لاگوہوتے ہیں اور اساتذہ کے تعلق سے تو دور دور تک اس کوئی لینا دینانہیں ہے،لیکن ریاست بھر میں ہائی اسکول و ڈگری کالجوں میں جان بوج کر طلباء کو حراساں کرتے ہوئے انہیں تعلیم سے دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ویلفیرپارٹی آف ایڈیاکی جانب سے اس ضمن میں ریاست کے مختلف اضلاع میں طلباء کو حراساں کرنے کے معاملات کو لیکر اسکول مینجمنٹ اور پولیس افسران کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے شکایتیں بھی درج کی جاچکی ہیں،ایسے معاملات ریاست میں پیش نہ آئیں اس کیلئے ہماری جانب سے کوششیں جاری ہیں۔جب ان سے سوال کیاگیاکہ ریاست میں حجاب کا مسئلہ اچانک شروع کرنے کے پیچھے کیا سازش ہے تو اڈوکیٹ طاہر حسین نے کہاکہ یہ واضح ہوچکاہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے ،کیونکہ حجاب کا معاملہ اڈپی سے شروع ہواتھا اور یہ صرف اسکول مینجمنٹ اور طلباء کے درمیان تھا،لیکن اسے کمیونل رنگ دینے کیلئے وہاں کے ایم ایل اے نے کھلے طورپر کہاتھاکہ اگر لڑکیاں حجاب پہن کر آئینگی تو ہمارے لڑکے بھی کیسری شال کااستعمال کرینگے،جیسے ہی یہ بیان جاری ہوا وہاں سے ریاست بھر میں حجاب اور کیسری شال کو لیکر تنازعہ بڑھ گیا۔ حجاب کے معاملے کو بڑھاوادینے کیلئے دو اہم وجہ ہیں،پہلے تو کرناٹک میں اسمبلی الیکشن ہونے والے ہیں جسے ریاستی حکومت کمیونل ایجنڈے کے تحت استعمال کررہی ہے اور دوسرا یہ کہ یوپی انتخابات بھی جاری ہیں اور وہاں سے دھیان ہٹانے کیلئے کرناٹک میں حجاب کے معاملے کوبڑھاوادیاگیاہے۔