شیموگہ فسادات کے بعد امدادی کام نہ ہوسکا،نہ چندے کی ضرورت ہے نہ چندہ کوئی مانگ رہاہے!

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر

شیموگہ:۔پچھلے دنوں شیموگہ میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشددکے واقعات کے بعد جہاں ہرشانامی نوجوان کے لواحقین کو ہندو تنظیموں کی طرف سے کروڑوں روپیوں کاچندہ دیاگیاہے وہیں مسلمانوں کا مالی نقصان ہونے کےباوجود انہیں کسی طرح کی مالی امداد نہیں پہنچی ہے،حالانکہ مسلمانوں میں بیشتر افراد ایسے رہے ہیں جنہیں مالی امداد کی ضرورت نہیں ہے،چندہی لوگ ایسے نشاندہی کئے گئے ہیں جن کیلئے تنظیموں کے ذمہ داران اپنی طرف سے مالی امداد کرسکتے ہیں۔لالبندواڑی کے علاقے میں بیشتر لوگ دن بھر مزدوری کرنے والے لوگوں میں سے ہیں جن میں سے تقریباً پانچ فیصد افرادہی مالی امدادکے مستحق ہیں۔جب ان لوگوں سے پوچھاگیاکہ کیا واقعی میں مالی امدادکی ضرورت ہے تو کئی لوگوں نے یہ کہاکہ ہمیں نہ تو دال دانوں کی ضرورت ہے نہ ہی راشن کٹ کی ضرورت درپیش ہے،مگر فسادات کے بعد جو ساتھ رہنےکا احساس دیاجاناتھا وہ احساس دور دور تک کسی نے نہیں دلایا،جس کا ہمیں افسوس ہے۔اس دفعہ شیموگہ میں کسی بھی علاقے میں بڑے علاقے میں مالی نقصان نہیں ہواہے جواس بات کی تصدیق کرتاہے کہ ان فساد زدگان علاقوں اور متاثرین کے نام پر لاکھوں کروڑوں روپیوں کے چندے کی ہزگربھی ضرورت نہیں ہے۔دراصل فسادات کے بعد حالات سے نمٹنے کیلئے قانونی لڑائی لڑنےکی ضرورت ہے جس میں مسلم تنظیمیں کم وبیش ناکام نظرآرہی ہیں۔بعض لوگوں نے چندہ کرتےہوئے متاثرین کو مالی امداد پہنچانے کا ارادہ بھی کیاتھا لیکن حالات اس قدربھی بُرے نہیں ہیں کہ الگ الگ علاقوں سے چندہ اکٹھا کیاجائے۔شہرمیں ہی جو عمائدین و مالدار طبقہ ہے وہی اس مختصر سے مالی نقصان کی بھرپائی کرنے کی استطاعت رکھتاہے۔اس لئے چندہ لینے دینے والوں کو اس معاملے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔