از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
ہمارے یہاں اختلافات کی کمی نہیں ہے،ہر بات پر ہم اختلاف کرتے رہے ہیں ۔ چاہے وہ مذہب کی بات ہو یا پھر سیاست کی۔اختلافات ہم نے تعمیری نظریہ کو سامنے رکھتے ہوئے پیش نہیں کئے ہوئے ہیں بلکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے یا ایک دوسرے کو کمزور کرنے کیلئے اپنائے ہیں۔اختلافات کی حد اس قدر بدتر ہوگئی ہے کہ قبر میں میت کو رکھتے ہوئے بھی جتنے لوگ موجود ہوتے ہیں ،اُتنے بھی رائے مشورے دیکر اختلافات پید اکرتے ہیں۔کوئی میت کو سیدھا سلانے کی بات میں اختلاف رکھتا ہے تو کوئی میت کے بازؤں کے پاس مٹی ڈالنے کی بات کو لیکر اختلافات پیدا کرتا ہے۔غرض کہ ہمارے اختلافات ہمیں اس قدر محدود کرتے جارہے ہیں کہ ہم آگے بڑھ ہی نہیں سکتے۔اتر پردیش اسمبلی انتخابات کی مثال ملک کے جمہوری نظام کیلئے سب سے بدترین نتائج مانے جاسکتے ہیں۔ان انتخابات میں مسلمانوں نے اپنے اپنے فیصلوں کو لیکر جو اختلافات پیدا کئے تھے وہ جمہوری نظام کیلئے سیاہ داغ لگانے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔آج ہم اس ملک کے جمہوری نظام میںموجودہیں،مگر جمہوریت کے حقیقی نکات سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے ہیں۔ہمارے سیاسی اسلاف نے مسلمانوں کو سماجی ،سیاسی،تعلیمی و اقتصادی حقوق دلانے میں ناکام رہے ہیں۔جس کا نتیجہ آج ہم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ہندوستان میں سب سے زیادہ معیاد میں کانگریس نے حکومت چلائی ہے،لیکن آج کانگریس خود اپنے آپسی اختلافات اور اپنی دوغلی پالیسیوںکی وجہ سے ملک میں صاف ہوتی جارہی ہے۔بی جے پی نے کچھ سال قبل تک کانگریس مکت بھارت کا نعرہ دیا تھا وہ نعرہ پائے تکمیل تک پہنچتا نظر آرہا ہے۔پورے ملک میں سوائے کرناٹک اور پنجاب میں کانگریس کی حکومت نظر آرہی ہے،لیکن آنے والے دنوںمیں ان ریاستوں سے بھی ان کی پکڑ کمزور وہوسکتی ہے اس میں دو رائے نہیں ہے۔ایسے موقع پر مسلم سیاسی قائدین کو محتاط ہوکر سوچنے کی ضرورت ہے۔آنے والے دنوںکیلئے حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے،کیونکہ جس طرح سے آج اترپردیش میں رومیو اسکواڈ،گاؤکشی اور مسجدوں ومدرسوں کے لاؤڈ اسپیکرس کو لیکر اختلافات پیدا کئے جارہے ہیں،ان اختلافات کی رومیں پورا ملک بہہ نہ جائے۔آج جو ملک کے سیکولرزم و جمہوری نظام پر آنچ آئی ہوئی ہے وہ آنچ کہیں پورے ملک کو تباہ نہ کردے۔اختلافات ہونے ہی چاہےے لیکن اختلافات منفی سمت میں لے جائیںتو یقینا یہ مسلمانوںکیلئے نقصاندہ ہوگا۔آج ہم مسلمان اپنے اختلافات اوراعتراضات کو الگ رُخ دیکر ملک کی سالمیت اور قوم کی فلاح کے تعلق سے لائحہ عمل تیار کریں تو یقینا اس کے مثبت نتائج سامنے آئینگے۔واضح ہوکہ ہمارے اختلافات نے ہمیں کبھی اپنے تحفظ کا موقع نہیں دیا ہے،جب بھی ہم منتشر ہوئے اس وقت ہم نے نقصان ہی اٹھایا ہے۔1992 میں بھی یہی حالات تھے جب بابری مسجد شہید ہوئے تھے،ا س وقت بھی ہم مسلک مسلک کا کھیل کھیل رہے تھے اور شر پسند اپنے ارادوں میں کامیاب ہوگئے ،جس کے نتیجہ میں بابری مسجد شہید ہوگئی۔2002 میں بھی ہم ایک دوسرے کے فرقے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے اور گجرات میں خونی کھیل کھیلا گیا،پھر2014 میںآسام میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا ،اس وقت بھی ہم اپنے آپ کو طاقتور فرقہ کہلانے کے باوجود وہاں کے مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے۔2015 میں مظفرنگر میں خونی کھیل کھیلا گیا،لاکھوں مسلمانوں کو بے گھر کردیا گیا،لیکن ہمارے تمام فرقے مل کر بھی مظلوم مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کوئی اہم رول ادا نہیں کیا۔یقینا ہمیں چالیس دن جماعت میں بھی جانا ہے،جو لوگ عرس و جلوس کو اہمیت دیتے ہیں اسے بھی پورا کرنا ہے،جو لوگ درسِ حدیث و درسِ قرآن کا پیغام دیکر غیروںمیں اسلام کو عام کرنا چاہتے ہیں وہ بھی ہمارا حق ہے،دعوت کے کام کیلئے جلسوں وپروگراموں کا انعقاد کرنا ہے وہ بھی ہمارا دینی فریضہ ہے،ساتھ ہی ساتھ اُمت کو اُمت محمدیہ بنا کر رکھنا سب سے بڑا فریضہ ہے۔ہم نے آپ کوجب بھی الگ تھلگ کیا،ہم نے نقصان ہی اٹھایا ہے۔ہمارے نقصانات بھلے ہی ہمارے لئے معمولی لگیں ،لیکن آنے والے دنوںمیں یہ ہماری نسلوںکیلئے سب سے خطرناک ثابت ہونگے اور اس بات سے انکاربھی نہیں کیا جاسکتا کہ اس ملک سے ہماراوجود بھی ختم ہوسکتا ہے۔اس لئے ہمارا ایک ہی مشورہ ہے کہ ہم اپنے باہمی اختلافات کو اپنے اندر چار دیواری تک محدود رکھ کر ملت کی بات سامنے آئے تو مل جل کر کام کریں اورملت میں سوچھ ملت ابھیان چلا کر دلوںکی کثافت و کوڑا کرکٹ کو صاف کریں۔
