داونگیرے:۔ ریاست کرناٹک کے ہبلی شہر میں عید گاہ مسلہ کے حل کے بعد اب تک تمام طبقات اتحاد کے ساتھ ایک دوسرے میں باہمی تعاؤن و بھائی چارے کے ساتھ زندگی بسر جو کر رہے تھے فرقہ پرستوں کی آنکھوں میں چبھنے لگا، ایسے میں ا یک شرپسند کے ذریعہ سوشیل میڈیا پر اشتعال انگیز پوسٹ کے نتیجہ میں حالات جو رونما ہوئے یقیناًہمارا جو راستہ تھا وہ تشدد سے خالی نہیں تھا ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ جب اس با ت کی اطلاع پولس تک دے دی گئی اور پولس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اُس شرپسند نوجوان کو گرفتار کرتے ہوئے مناسب کاروائی کے لئے یف آئی آر درج کرلیا تو معاملہ اب قانون کی دہلیز پر رہا ایسے میں چند نوجوانون کی طرف سے خاطی کو اپنے حوالے کرنے کا مطالبہ کرنا کس طرح دُرست ہوسکتا ہے،اسی بحث کے دوران کچھ دیگر شر پسند جو موقع کی تاک میں تھے مسلم نوجوانوں کو پھنسانے کا بہانہ مل گیا اور پولس پر پتھراؤ جو ہو وہ کس کی جانب سے ہوا یہ الگ بات ہے مگر اِس کو مسلم نوجوانوں سے جوڑنے کے لئے جو موقع خود مسلم نوجوانون نے دیا فرقہ پرستوں کو ایساء کسی صورت نہیں ہونا چاہیئےہماری قوم کے نوجوانون کا جذبہ لائق ستائش مگر حالات کا تضاضہ کچھ اور ہی کہتا ہے صدیوں سے ملک میں ہندو اور مسلمان باہمی یکجہتی کے ساتھ جو یہان زندگی بسر کررہے ہیں اس اتحاد کو پارہ کرنا ہی اقتدار کی سیڑھی سمجھ بیٹھے ہوؤں کو موقع دینا دینا کسی صورت دانشمندی میں شمار نہیں ہوگا قانون کو اپنا کام کرنے کے لئے موقع دینا بھی ضروری ہے ،تب جاکے مناسب دفعات کے ذریعہ خاطیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں مدد حاصل ہوگی ورنہ ہم خود اگر پولس سے مقابلہ آزمائی کرنے لگین تو ظاہر سی بات ہے پولس کے ذریعہ لگائی جانے والی دفعات کے معاملہ میں ہم پوری طرح ناکام ہونے لگیں گے اور شرپسند عناصر اپنی رویش پر کام کرتے ہی رہیں گے،اِن خیالات کا اظہار سابق رکنِ کونسل کے پی سی سی مینارٹی چیرمن کے عبدالجبار نے اسی سلسلے میں کلبرگی کے دورے پر کلبرگی جیل میں مقید ہبلی و دیگر مقامات کے نوجوانوں کی رہائی کے سلسلے میں وکلا سےمشوروں اور قیدیوں کو افطاری کے اہتمام اور عید کے موقع پر قیدیوں کے اہل و اعیال سے متعلق مصروفیت کے موقع پر اردو اخباری نمائندے کی جانب سے رابطہ پر بتایا کہ ملک میں مسلمانو ںکو شدد کا نہیں احتیاط کا راستہ اپنانا ہوگا ورنہ ہم خود فرقہ پرستوں کومواقع فراہم کرنے کے مصداق عمل پر گامزن پائے جارہے ہیں اس رویش کو بدلنا ہی وقت کا تضاضہ ہے، عبدالجبار نے بتایا کہ اس موقع پر اُن کے ساتھ رکنِ راجیہ سبھا ڈاکٹر سید ناصر حُسین کے علاوہ ہبلی انجُمن کے ذمہ دار بھی شریک ہیں،مزید عبدالجبار نے اخباری نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلم قوم کے نوجوانوں کوچاہیئے کہ کسی بھی معاملہ میں اپنے ردِ عمل سے پہلے بزرگ احباب سے مشورہ کرنا نہایت ضروری عمل ہے ورنہ ہم اگر ایک دوسرے کا احترام نہیں کرین گے تو آسان شکار ہونے سے بچ نہیں پائیں گےپچھلے چھ ساتھ مہینوں سے ریاست میں آنے والے عام انتخابات کے پیش ِ نظر جس طرح کا ماحول سازگار کیا جارہا ہے اس سے ہمیں سبق حاصل کرنا ہوگا ،فساد کا سبب جو بنتے ہیں وہ پولس کی گرفت میں آسانی سے نہیں آتے مگر جو بےقصور ہوتے ہیں وہی ہمیشہ پولس کی گرفت میں آتے ہیں ،لہذاء کسی صورت قانون ہاتھ میں لینا دانشمندی میں شمار نہیں ہو گا،اور سوچنا ہوگا ہماری زرہ سی کوتاہی کے سبببے لوگ جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند رہیں جن میں اکثر روزمرہ کمائی پر گذر بسر کرنے والے بھی ہوتے ہیں اُن کی بڑی مشکلات کا سبب بننے سے بچنا ضروری ہے۔
