بنگلورو:۔پولیس سب انسپکٹروں کی بھرتی کے معاملہ میں مطلوبہ کلیدی ملزمہ دیویا ہاگرگی کے ساتھ کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی(کے پی سی سی) کے صدر ڈی کے شیو کمار کی تصویر منظر عام پر آنے کے بعد جہاں بی جے پی نے ان سے پوچھ گچھ کرنے کی مانگ کی وہیں ڈی کے شیو کمار نے بھی اس معاملہ کی جانچ میں لگی سی آئی ڈی کے افسروں سے کہا کہ وہ ان کو پوچھ تاچھ کے لئے نوٹس دے کر طلب کریں وہ حاضر ہونے کے لئے تیار ہیں۔اخباری نمائندو ں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہت سارے لوگ ان سے ملاقات کرتے ہیں۔وہ نہیں جانتے کہ یہ تصویر کب لی گئی ہے۔ اب ان کے دوستوں نے اس معاملہ کو ان کے علم میں لایا ہے۔ پولیس حکام کو چاہئے کہ سب سے پہلے مجھے نوٹس جاری کر کے پوچھ تاچھ کے لئے طلب کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھی ایک ریاستی وزیر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ اس مرحلہ میں وہ ان سے ملاقات کے لئے آئیں اور اپنا مسئلہ رکھ کر چلی گئیں۔ بی جے پی کی طرف سے اس معاملہ میں ان کو نشانہ بنائے جانے کے بارے میں ایک سوال پر شیو کمار نے کہا کہ بی جے پی کو میرا نام لئے بغیر شہرت نہیں ملتی۔کانگریس کے تنظیمی انتخابات کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سابق مرکزی وزیر سدرشن ناچیاپن کو پارٹی نے الیکشن آفیسر مقرر کیا ہے۔ کیرلا کے جوزف ابراہم اور چھتیس گڑھ کے موتی لال دیوانند نائب الیکشن آفیسر بنائے گئے ہیں۔ یہ دونوں ان دنوں ریاست کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو آگے بڑھانے کے لئے ان کو پارٹی کے ووٹروں کی فہرست سونپی گئی ہے۔ ریاست میں کانگریس کی 78لاکھ رکنیت سازی عمل میں آئی ہے۔ اس کے علاوہ کئی لوگوں نے بک کے ذریعہ رکنیت سازی کی ہے جس کا شمار ہونا ابھی باقی ہے۔انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں تنظیمی انتخابات کی نگرانی کے لئے 40رکنی ٹیم پہنچی ہوئی ہے۔ انتخابی حکمت عملی کے ماہر پرشانت کشور کے کانگریس میں شامل ہونے سے انکار کے بارے میں ایک سوال پر ڈی کے شیو کمار نے کہا کہ پرشانت کشور نے کانگریس کے لئے بہت سارے منصوبے دئیے ہیں ان کے ساتھ ہفتوں کی بات چیت ہوئی ہے پارٹی نے ان کے مشوروں کو بخوشی منظور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ایک پرانی سیاسی جماعت ہے جس کی اپنی ہی ایک تاریخ ہے۔پارٹی کو ایک کارپوریٹ آفیس کی طرح نہیں چلایا جا سکتا۔ پرشانت نے جو مشورے دئیے ہیں پارٹی ان کا احترام کرتی ہے۔ قومی سطح پر ان کے مشوروں پر بحث ہوگی۔ اس معاملہ میں وہ زیادہ تبصرہ نہیں کر سکتے۔ متعدد لوگوں کی طرف سے فرضی ایس سی ایس ٹی سرٹی فکیٹ لینے کی شکایتوں کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ اس کے بارے میں تفصیلات جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تمام تفصیلات جمع ہونے کے بعد وہ میڈیا سے اس بارے میں بات کریں گے۔
