بنگلورو:۔بنگلورو سائوتھ ڈیویژن کے رکن پارلیمان تیجسوی سوریہ نےپچھلے دنوںجو تبصرہ مسلم عملے کو لیکر کیاتھا،اُس پر تیجوسوی سوریہ کے دفتر سے وضاحت دی گئی ہے کہ انہوں نے نے معذرت نہیں مانگی ہے۔ملک بھر میں تیجسوی سوریہ کے خلاف لوگوں نے برہمی کااظہارکیاجارہاہے اور انہیں دہشت گردوں سے تشبیہ دجارہی ہے ،دراصل تیجسوی سوریہ نے پچھلے دنوں بروہت بنگلورو مہانگر پالیکے کی جانب سے شروع کئے گئے کنٹرول روم کا معائنہ کیا اور وہاں پرخدمات انجام دینے والے اہلکاروں کی تفصیلات اکٹھاکی تھی۔206 اہلکاروں میں سے18 مسلم اہلکاروں کے ناموں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بی بی ایم پی میں خالص مسلمانوں کو لیکر ایک طرح سے مدرسے کا ماحول بنایاگیاہے اورفوری طور پر ان مسلم اہلکاروں کو خدمات سے الگ کیاجائے۔ان کے اس تبصرے کے بعد نہ صرف ریاست میں بلکہ ملک بھر میں یہ اعتراض کیاجارہاتھاکہ کوروناجیسے سنگین حالات میں بھی رکن پارلیمان تیجسوی سوریہ نےمذہب کو لیکر تبصرہ کیاجارہاہے یہ شرمناک بات ہے۔انکے اس بیجا تبصرے پر بنگلوروکے ایک وکیل اڈوکیٹ بالن نے تیجسوی سوریہ کے خلاف معاملہ بھی درج کروایا ہے ۔، لیکن سوشیل میڈیا اور کچھ الیکٹرانک میڈیا میں یہ خبر دی جارہی ہے کہ تیجسوی نے معافی مانگی ہے لیکن یہ جھوٹ بات ہے ۔
