داونگیرے:۔ داونگیرے مونسپل کارپوریشن کے 28 وین اور 37 ویں وارڈ میں پچھلے دنوں کانگریس سے منتخب کارپوریٹر کے ذریعہ استفٰعی سے خالی دو نشستوں کیلئے ضمنی انتخابات 20مئی کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں 28 وین وارڈ سے کانگریس اُمیدوار کی کامیابی کے امکانات روشن نظر آنے لگے ہیں ،مگر کانگریس قائدین کی جانب سے کسی کارپوریٹر کی باتوں میں آکر قوم کو بانٹنے کی کوشش سے لوگوں میں تشوئش کا ماحول پایا جارہا ہے،لہذاء کانگریس قائدین پارٹی کی کامیابی کو یقینی بنانا چاہتے ہوں تو اس کی اصلاح کریں،وارڈ نمبر 28 میں کانگریس پارٹی سے ہلمنے گنیش اور بھاچپا سے سابق مستفیٰ کارپوریٹر کے درمیان کانٹے کی ٹکر کا جو ماحول پایا گیا وہ جنتادل یس سے اُمیداوار محمد سمیع اللہ کے ذریعہ کانگریس پارٹی کے حق میں نامزدگی واپس لینے کے بعد کانگریس اُمیدوار ہلمنے گنیش کی کامیابی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں ۔وارڈ کے لوگوں کا یہی خیال ہے کہ انتخابات کے دن تک پارٹی کارکنوں اور لیڈرون کو یہان کچھ زیادہ محنت کرنی ہوگی اپنی اصلاح کے ساتھ ،خوش فہمی ہمیشہ نقصان کا باعث بن سکتی ہے اور نتیجہ برعکس بھی ظاہر ہو سکتا ہے ،سابق ریاستی وزیر یس یس ملکارجن اور سابق ریاستی اقلیتی کمیشن چیرمن سینئرکانگریس قائد ملت تعلیمی ادارجات کے بانی سید سیف اللہ نے اُمیدوار کے ساتھ مل کر 28 ویں وارڈ میں ایک ریلی کے ذریعہ زبردست انتخ ابی مہم چلائی اور اس موقع پر جنتادل یس سے کانگریس کے حق میں نامزدگی واپس لینے والے محمد سمیع اُللہ بھی ساتھ رہے سیکڑون پارٹی کارکن ریلی میں شریک رہےکہا جارہا ہے وارڈ نمبر اٹھائیس سے کانگریس کی جیت یس یس ملیکارجن کیلئے داونگیرے شمال حلقہ سے 2023ء عام اسمبلی انتخاب میں کامیابی سیڑھی سمجھا جارہا ہے اب دیکھنا ہے کیا ہوگا یہ تو 22 مئی کو ووٹوں کی گنتی سے ظاہر ہوگا البتہ مسلم سیاسی لیڈروں کی یہاں بڑی محنت دیکھنے میں آرہی ہے۔
