بھٹکل :۔ آج بھٹکل میں تھوڑی دیر کے لئے حالات اس وقت کشیدہ ہوگئے جب اسارکیری نشچل مکّی مندر کے پاس سڑک پر بلدیہ کی اجازت کے بغیر کیے جارہی عالیشان گیٹ کے جواب میں مسلم نوجوانوں نے سلطان محلہ اسارکیری کراس پر ٹیپوسلطان گیٹ تعمیر کرنے کی کوشش کی اور تعلقہ انتظامیہ اور بلدیہ کے ساتھ پولیس کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر دونوں جگہ کام رکوا دیا ۔ کیا ہے یہ مسئلہ: کچھ دن پہلے اسارکیری میں جو مشہور مندر ہے اس کے پاس سڑک پر ایک بہت بڑے مہا دوار یا بڑا داخلی گیٹ کا تعمیری کام بڑے زور و شور سے شروع ہوا ۔ تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ اس مہادوار کی تعمیر کے لئے ٹی ایم سی سے اجازت نامہ نہیں لیا گیا ہے ، الٹے ٹی ایم سی کی طرف سے کام روکنے کی ایک سے زائد مرتبہ نوٹس جاری ہونے کے بعد بھی بلا روک ٹوک تعمیری کام جاری ہے ۔ اور یہ سارا کام خود مقامی ایم ایل اے کی ہدایت اور نگرانی میں ہو رہا ہے ۔مسلم نوجوانوں کو تشویش : اس پر مسلم نوجوانوں کو تشویش ہوئی کیونکہ پچھلے کچھ عرصہ سے بھٹکل میں مقامی ایم ایل اے کی کمک سے اور ذاتی دلچسپی سے ایسے کام ہو رہے ہیں جس میں قانون کی پابندی، ٹی ایم سی کی اجازت جیسی کسی چیز کا لحاظ نہیں کیا جاتا ۔ غیر قانونی باکڑوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، مچھلی مارکیٹ منتقلی میں رکاوٹ، ٹی ایم سی عمارت پر اردو میں لکھا گیا نام ہٹانے کا معاملہ ۔ یہ سب ایسے نکات ہیں جس سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ایم ایل اے سماج کے صرف ایک طبقہ کے عزائم اور ہندوتوا لابی کے مقاصد پورے کرنے پر کمربستہ ہے اور خاص کر مسلمانوں کو اور ان کی اجتماعیت کو کنارے لگانے کے منصوبوں پر عمل کر رہا ہے ۔ٹیپو سلطان گیٹ : شہر کے کچھ نوجوانوں نے اس کے ردعمل میں ایک اقدام کیا اور ٹیپو سلطان سے منسوب سلطانی مسجد والی سلطان اسٹریٹ کے اسارکیری کراس پر ٹیپو سلطان گیٹ تعمیر کرنے اور آج جمعہ کے دن عصر کے وقت اس کے افتتاح کا اعلان کردیا ۔ اسی کے ساتھ انہوں نے ٹی ایم سی میں اس گیٹ کی تعمیر کے لئے اجازت طلب کرتے ہوئے درخواست بھی دے دی ۔ پھر آج منصوبے کے مطابق جب گیٹ کی تعمیر کے لئے کام شروع ہوا تو ٹی ایم سی ، تعلقہ انتظامیہ اور پولیس محکمہ ایک ساتھ حرکت میں آ گئے اور کام روکنے پر اصرار کرنے لگے ۔ مسلم نوجوانوں نے ایک ہی نکتہ رکھا کہ دوسری جگہ پر ہو رہے غیر قانونی تعمیراتی کام کو روک دیا جاتا ہے تو وہ بھی گیٹ کا کام فی الحال روکنے اور جب بھی ٹی ایم سی سے اجازت ملے گی تب شروع کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ اگر دوسری جگہ بغیر اجازت کے کام ہوگا تو پھر ہم لوگ بھی بغیر اجازت اپنا کام دوبارہ شروع کرینگے ۔ اسارکیری میں ہنگامہ : جب تعلقہ انتظامیہ کی طرف سے بھٹکل تحصیلدار نے اسارکیری مندر کے مہادوار کا کام روکنے اور وہاں پر موجود تعمیراتی سازوسامان ضبط کرنے کی کوشش کی تو ہندو سماج کے لیڈروں نے سرکاری افسران کو آڑے ہاتھوں لیا ۔ ایک لیڈر کو بڑے ہی مشتعل انداز میں یہ تک کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہاں سے ایک کیل بھی اٹھا کر لےجانے کی کوشش کی گئی تو یہاں پر لاشیں بچھ جائیں گی ۔ سرکاری افسران کو عار دلاتے ہوئے پوچھا گیا کہ مسلمانوں کی غیر قانونی عمارتوں کو ڈھانے اور غیر قانونی تعمیرات پر روک لگانے کا کام کیوں نہیں کیا جاتا ۔ ایک لیڈر نے کہا کہ ہم نے تو غیر قانونی عمارتوں اور تعمیرات کی فہرست بھی سونپی ہے اس پر کارروائی کیوں نہیں کی جاتی ؟ اس ہنگامے کے دوران وقتی طور پر وہاں تعمیراتی کام روک دیا گیا ۔ٹیپو سلطان گیٹ کی ہورڈنگ اٹھا لے گئے : صبح کے ہنگامے کے بعد مسلم نوجوان اپنے اپنے گھر چلے گئے اور گیٹ کے لئے تعین کی گئی جگہ پر پولیس کا سخت پہرہ بٹھا دیا گیا ۔ جمعہ کی نماز کا وقت جب قریب تھا اور نوجوان سب نماز جانے کی تیاریوں میں تھے ٹی ایم سی عملہ نے تو پولیس کی نگرانی اور حفاظت میں اس مقام پر لگایا گیا ٹیپو سلطان گیٹ افتتاح والی ہورڈنگ ضبط کرکے لے گئے ۔ اور اس جگہ کو سیل کر دیا گیا ۔ یہ پاکستان نہیں ہے : ایم ایل اے سنیل نائک نے ایک کنڑا نیوز چینل کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ ہندووں کے مندر کے پاس مہادوار تعمیر کرنا ہندووں کا مذہبی حق ہے اور اسے کوئی بھی چلینج نہیں کر سکتا ۔ ہم اپنا حق استعمال کرکے رہیں گے ۔ ہمیں اس کے لئے کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ مسلمان جو ٹیپو گیٹ بنانے کی بات کر رہے ہیں ، انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ پاکستان نہیں ہے ۔ وہ اس طرح ہندووں کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کر سکتے ۔ اس نے ناگ بن کی تعمیر کے وقت پیدا ہوئے تنازعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی تنظیم اور ایس ڈی پی آئی والے صرف ہندووں کو ٹارگیٹ بنا کر خواہ مخواہ ان کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی کرنے اور ٹانگ اڑانے کی حرکتیں کر رہے ہیں ۔ ہر قیمت پر مہادوار تعمیر ہوگا : سنیل نائک نے اپنے فیس بک پیج پر تمام ہندووں کے نام پیغام دیا ہے کہ دوسری قوم کی طرف سے اس مہادوار کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالنے سے انہیں پریشان اور فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، چاہے کسی بھی قسم کی رکاوٹ آئے ، مگر مہادوار کی تمیر کا کام رکنے والا نہیں ہے اور ہر حال میں تعمیر ہوکر رہے گا ۔ ٹی وی سے گفتگو کے دوران سنیل نے کہا کہ وہ سماج کے بزرگوں اور سماج کے کرتا دھرتا افراد کی خواہش پوری کرنے کے لئے خود اپنے ذاتی خرچ سے یہ بڑا دروازہ یا مہا دوار تعمیر کر رہا ہے ، اور اس کام کو وہ پورا کرکے رہے گا ۔
