میسورو:۔نصاب پر نظر ثانی سیاسی رسہ کشی نہیں ہے،ہم سب مل کر تعلیمی نظام تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں،جو آئندہ نسل کیلئے نقصادہ اور ملک کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتاہے۔یہ بات سابق ریاستی وزیر ورکن کونسل ایچ وشواناتھ نے کہی۔انہوں نے یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ روہت چکرتیرتھ آخر کون ہے؟سنگھ پریوار کا ایک کارکن۔ ماہر تعلیم نہ ہونے والے ہی نصابی کتابیں تیار کرنے کی کمیٹی کے صدر ہیں،اس سے بڑا المیہ کیاہوسکتاہے۔اسکولی نصاب میں زعفرانیت شامل کرنے کی کوشش خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔ مذہب کی بنیاد پراسباق نصاب میں کسی بھی صورت میں شامل نہ کئے جائیں۔وشواناتھ نے کہاکہ نارائن گروسماجی انقلاب کے روح رواں ہیں ان کے تعلق سے سبق شامل کرناغلط نہیں ہے، مگر انہیں نصاب سے نکالاجاناغلط ہے۔ہیڈ گیوار کون ہے؟ اس سے ہمیں کوئی مطلب نہیں ہے،من مانی سے کسے چاہئیں اسے اسکولی نصاب میں شامل کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ ہیڈگیوار کا ٹیپو سلطان سے ہر گز موازنہ نہیں کیا جاسکتا ، ٹیپوسلطان کی ایک تاریخ ہے اور وہ ایک بہادر بادشاہ اور مجاہد آزادی ہیں اور انہوں نے انگریزوں کے خلاف جنگیں لڑی ہیں،مگر ہیڈگیوار نے کیاکیاہے؟اس کی تاریخ کیاہے یہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔ایسے شخص کو نصاب میں شامل کرناغلط ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
