تعلیمی نصاب میں کیچڑ

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں
از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
تعلیم کا مطلب صرف سرٹیفکیٹ حاصل کرنانہیں ہے بلکہ زندگی کا مقصدطئے کرناہے اور اس مقصدکے ذریعے سے دوسروں کی بھلائی کےتعلق سے کام کرناہے اور اسی کام کے عوض میں انسان کو دولت و شہرت ملتی ہے،لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اس وقت کرناٹک میں تعلیم کا جس طرح سے گندہ کیاجارہاہے وہ پوری طرح سے ہٹلرکی آمریت یعنی ڈکٹیٹرشپ کے مترادف ہے۔جب سے کرناٹک میں تعلیمی نصاب کوبدلنے کا فیصلہ کیاگیاہے اُس کے بعد سے ریاست میں نصابی کمیٹی سے لیکر نصاب میں شامل اسباق تک سوالیہ نشانات کے گھیرے میں ہیں۔ریاست کے وزیر تعلیم بی سی ناگیش جو باقاعدہ طو رپر آر ایس ایس کے پرچارک ہیں،انہوں نے ریاست میں تعلیمی نصاب کو بدلنے کیلئے ایک کمیٹی کی تشکیل دے رکھی ہے اور اس میں بھی برہمنزم اور سنگھ پریوارکے ایجنڈے کرنے والے لوگ شامل ہیں جس کی وجہ سے تعلیمی نصاب پوری طرح سے گندہ ہوچکاہے۔ملک میں جو سیکولرزم کے جو افکار تھے اُنہیں ہٹادیاجارہاہے،قومی شاعر کوئمپو، پی لنکیش،ٹیپوسلطان،سارہ ابوبکر جیسے لوگوں کے اسباق کو ہٹاکر اس کی جگہ پر برہمن واد کو بڑھاوادیاجارہاہے،بھارت کی تاریخ کومسخ کرتے ہوئے آر ایس ایس کے ایجنڈوں کو اس نصاب میں شامل کیاگیاہے،حالانکہ اس معاملے کو لیکر ریاست کا دانشور طبقہ شدید مخالفت کررہاہے اور حکومت کے سامنے اپنا احتجاج درج کروارہاہے۔اس پوری جدوجہدمیں ریاست کے مسلم دانشوروں ،سیاستدانوں،اہلِ علم حضرات اور تاریخ دانوں کی نمائندگی نہ کہ برابرہے۔جس طرح سے آج اسکولی نصاب کو مسخ کرنے کی کوشش چل رہی ہے،اسی طرح سے مسلمانوں کی تعلیمات کو بھی مسخ کرنے کی کوشش کی جائیگی۔پورے نصاب میں عظیم مجاہد آزادی حضرت ٹیپوسلطان کاتذکرہ کہیں بھی نہیں ہے،اگر چہ تذکرہ کیابھی گیا ہوتو اُنہیں ویلن کے طو رپر پیش کیاگیاہے۔سوال یہ اُٹھ رہاہے کہ آخر اب بھی کتنی خاموشی کے ساتھ مسلم دانشوران بیٹھےگیں؟۔ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ اس سلسلے میں دلتوں،پسماندہ طبقات کی تائیدکرتے ہوئے مسلمانوں کو بھی آگے آناچاہیے تھا،لیکن اس معاملے میں بہت کم لوگ دلچسپی دکھارہے ہیں جس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو اٹھاناپڑیگا۔کہاگیاہے کہ ایک بہتر ملک اور ایک اچھے سماج کیلئے لڑو،لڑ نہیں سکتے تو لکھو،لکھ نہیں سکتے تو بولو،اگر بول بھی نہیں سکتے ہوتو ساتھ دو،اگرساتھ بھی نہیں دے سکتے ہوتوجو لکھ رہے ہیں ،بول اور لڑ رہے ہیں اُن کی مددکرو،اگر مدد بھی نہ کرسکو تو اُن کے حوصلوں کوگرنے نہ دو،کیونکہ وہ آپ کے حصے کی لڑائی لڑرہے ہیں۔