دہلی: راجستھان سے وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک خاتون اپنے شوہر کو بلے سے مارتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ اس ویڈیو میں نظر آنے والاشخص ایک سرکاری اسکول کا پرنسپل ہے اور اس کا نام اجیت سنگھ ہے۔ یہ ویڈیو اجیت سنگھ کے گھر کے سی سی ٹی وی نے ریکارڈ کیا ہے۔نیوز پورٹل ’آج تک‘ کے مطابق اجیت سنگھ بھیواڑی کا رہائشی ہے اور اس کی شادی سونی پت کی رہنے والی سمن سے 9 سال قبل ہوئی تھی۔ شادی کے بعد کچھ دنوں تک سب کچھ ٹھیک رہا لیکن اس کے بعد تعلقات خراب ہونے لگے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اکثر اس کی بیوی اسے مارتی ہے۔ویسے اجیت سنگھ اکیلے شوہر نہیں ہیں جو گھریلو تشدد کا شکار ہوئے ہیں۔ ہندوستان میں کئی ایسے لوگ ہیں جن کے ساتھ ان کی بیویاں مار پیٹ کرتی ہیں۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے اعداد و شمار کے مطابق 49 سال کی عمر تک کی 10 فیصد خواتین ایسی ہیں جنہوں نے کبھی نہ کبھی اپنے شوہروں پر ہاتھ اٹھایا ہے۔ وہ بھی اس وقت جب ان کے شوہر نے ان پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا۔ یعنی 10 فیصد خواتین نے بغیر کسی وجہ کے اپنے شوہروں پر حملہ کیا۔ اس سروے کے دوران تقریباً 11 فیصد خواتین ایسی تھیں جنہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے گزشتہ ایک سال میں اپنے شوہروں پر تشدد کیا ہے۔سروے کے مطابق بڑھتی عمر کے ساتھ اپنے شوہروں پر تشدد کرنے والی خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ 20 سے 24 سال کی عمر کی تقریباً 3 فیصد خواتین ایسی ہیں جو اپنے شوہروں پر تشدد کرتی ہیں۔ جبکہ 25 سے 29 سال کی 3.4 فیصد، 30 سے 39 سال کی 3.9 فیصد اور 40 سے 49 سال کی 3.7 فیصد خواتین اپنے شوہروں پر حملہ کر چکی ہیں۔اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ شہروں کی نسبت دیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین اپنے شوہروں کے خلاف زیادہ تشدد کرتی ہیں۔ اپنے شوہروں پر تشدد کرنے والی شہری علاقوں میں رہنے والی خواتین کی شرح 3.3 فیصد ہے جبکہ دیہی علاقوں میں رہنے ایسی خواتین کی شرح 3.7 فیصد ہے۔گھریلو تشدد قانون پر تبصرہ کرتے ہوئے گزشتہ سال جون میں میاں بیوی کے ایسے ہی ایک معاملے کی سماعت کے دوران مدراس ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ شوہر کے پاس بیوی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے گھریلو تشدد جیسا قانون نہیں ہے۔ لہٰذا اگر بیوی اپنے شوہر کو مارتی ہے تو ایسے معاملات گھریلو تشدد کی زد میں نہیں آئیں گے۔ایسی صورت میں شوہر ہندو میرج ایکٹ کی دفعہ 13 کے تحت طلاق کی درخواست کر سکتا ہے۔ اس دفعہ میں کہا گیا ہے کہ اگر دوسرا فریق درخواست گزار کے ساتھ ظلم، جسمانی یا ذہنی تشدد کر رہا ہے تو وہ طلاق لے سکتا ہے۔اگر شوہر گھریلو تشدد کے خلاف قانونی کارروائی کرنا چاہتا ہے تو اسے آئی پی سی کی دفعات کے تحت کارروائی کرنے کا حق حاصل ہے۔ کچھ کلیدی دفعات جو اس طرح کے معاملات میں کام آ سکتی ہیں، اس کے تحت شوہر اپنی بیوی کے خلاف اپنے اور اپنے خاندان کے خلاف مجرمانہ سازش کرنے کا مقدمہ درج کرا سکتا ہے۔اس کے تحت اگر شوہر کو لگتا ہے کہ اس کی بیوی یا کوئی شخص اس کے خلاف عدالت یا پولیس میں جھوٹے ثبوت پیش کر رہا ہے، تو وہ یہ دعویٰ کرتے ہوئے مقدمہ دائر کر سکتا ہے کہ جو ثبوت اس کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے استعمال کیے جائیں گے یا کئے جا رہے ہیں وہ جھوٹے ہیں۔اگر بیوی اپنے شوہر یا اس کے خاندان یا اس کی جائیداد کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دیتی ہے، تو شوہر اس دفعہ کے تحت اپنی بیوی کے خلاف مقدمہ درج کرا سکتا ہے۔اگر بیوی آئی پی سی کی دفعہ 498 اے کے تحت جہیز کے لیے ہراساں کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے جھوٹا مقدمہ درج کراتی ہے، تو شوہر سی آر پی سی کی دفعہ 227 کے تحت اپنی بیوی کے خلاف شکایت درج کرا سکتا ہے کہ اس کی بیوی نے اس کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کرایا ہے۔
