بنگلورو/شیموگہ:۔کرناٹکاوقف بورڈنے پچھلے دنوں ریاست کے تمام اوقافی اداروں کو اس بات کی ہدایت دی ہے کہ وہ امسال کوویڈ کے سنگین حالات کے پیش نظر اپنے اپنے اوقافی اداروںکے ذریعے سے اس وباء سےمتاثر ہونےو الے افرادکی مددکیلئے آگے آئیں،ساتھ ہی ساتھ بڑےاوقافی ادارے اپنے اداروں کے ماتحت کوویڈ کئیر سینٹر کاقیام کریں،اور جو اوقافی ادارے مالی طو رپر مستحکم ہیں وہ ضرورت مندوں کی مددکیلئے آگے آئیں۔لیکن ایسا لگ رہاہے کہ اوقافی اداروں کے ذمہ داران اپنے اداروں کے مال و آمدنی کو ضرورت مندوں کیلئے خرچ کرنے کے بجائے اژدھا سانپ بن کر بیٹھے ہوئے ہیں۔کوروناکی وجہ سے پہلے ہی لوگ بے روزگاری کا شکارہورہے ہیں اور لاک ڈائون نے رہی سہی کثر بھی پوری کردی ہے۔لاکھوں کروڑوں روپیوں کے آمدنی والے اوقافی ادارے ایسے سنگین حالات میں ضرورت مندوں کی مالی امدادکرنے کےبجائے تعمیراتی کام انجام دے رہے ہیں۔مسجد پر مسجد،مدرسے پر مدرسہ اور عمارت پر عمارت بنا رہے ہیں،کئی اوقافی اداروں کے بینک کھاتوں میں ایک روپیہ کی کمی ہونے نہیں دیاجارہاہےاور ایسے پائی پائی جارہی ہے مانوکہ ان کے باپ کی کمائی ہے۔شیموگہ شہرکی ہی بات کی جائے تویہاں پر تقریباً6/ایسے اوقافی ادارے ہیں جس کی آمدنی سالانہ لاکھوںروپئے میں ہے،مگر اس رقم کو خرچ کرنے کیلئے کوئی تیارنہیں ہے۔دوسری طرف ریاستی وقف بورڈنے کوویڈسینٹر کے قیام کی بھی سفارش کی ہے،لیکن افسوس کہ کوئی اس جانب توجہ ہی نہیں دے رہاہے۔اوقافی ادارے اور ملی ادارے مالدار پر مالدار ہورہے ہیں،اوقافی اداروں کو کرایوں کی آمدنی مل رہی ہے تو ملی اداروں کو بھی باقاعدہ چندے مل رہے ہیں،باوجود اس کے یہ لوگ ملت اسلامیہ میں کام کرناہی نہیں چاہ رہے ہیں۔کئی ملی وسماجی تنظیمیں جو الیکشن کے وقت بہت آیکٹیویٹ جاتے ہیں اور ملت اسلامیہ کی خدمت کرنے کی دعویداری کرتے ہیں وہ لوگ بھی ملت کو بے سہاراوبے مددگار بنانے لگے ہیں۔بے روزگاری کی وجہ سے لوگ افراتفری کا شکار ہورہے ہیں،خصوصاً متوسط طبقہ مالی حالات سے دوچار ہے،یہ لوگ نہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا سکتے ہیں نہ ہی خاموش رہ سکتے ہیں۔باوجود اس کے ان کی مددکیلئےکوئی آگے نہیں آرہاہے۔
