نوبل ویژن ویلفیر اسوسیشن کی جانب ٹیلرنگ تربیت کے اختتام پر اسناد کی تقسیم 

اسٹیٹ نیوز
چنگیری:۔تعلق کے قصبہ کیرے بلچی نوبل ویژن ویلفیر اسوسیشن کی جانب سے دفتر جماعت اسلامی میں چھ ماہ کی میعاد پر سلائی مشن تربیتی کارگاہ( ٹیلرنگ ٹریننگ) کا اہتمام کیا گیا تھا جسکے اختتام پر تربیت حاصل کرنے والے طلباء کو نوبل ویژن کی جانب سے سند دی گئی ۔اس موقع پر وظیفہ یا ب پرنسپل نوبل ویژن کی جانب سے تربیتی کارگاہ کے کنوینرافروز علی خان کی صدارت میں ایک اجلاس منعقد کیا گیا ،اجلاس کے افتتاح کے بعد تربیتی کارگاہ میں تربیت حاصل کرتے ہوئے طلباء نے جو سلائی کی اس کو تمام کے سامنے پیش کیا گیا ۔اس کے بعد وظیفہ یا ب تحصیلدار ومتولی جامع مسجد اعجاز بیگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہنر کا سیکھنا بڑھتی مہنگائی کے اس دور میں ہر کسی کیلئے بہت ہی ضروری ہے ،وظیفہ لکچرار محبوب علی نے کہا ہنر سے عورت خود کفیل ہوتی ہےاور گھروں میں خوشحالی ہوتی ہے ،سید نصراُللہ نے کہ ہنر سیکھ کر صرف اپنے گھر کے پھٹے پرانے سی لینا اور اسی پر اکتفاء کرنا سیکھے ہوئے ہنر سےدھوکہ دینے کے مترادف ہے بلکہ سیکھے ہوئے ہنر سے روزگار کے مواقع پیدا کرنا اپنے گھریلو ماحول کو معاشی بحران سے نکالنا ہنر کا حق ادا کرنا ہے۔وظیفہ یاب لکچرار عبیدا لرحمن نے کہا کہ عورتوں میں ہنر کے ہونے سے بہت سارے مسائل کا حل ہوتا ہے وقتی طور پر اپنے بچوں کی تعلیمی اعتبار سے بھی ایک ماں اپنے بچے کو کسی بھی میدان میں پیچھے برادشت نہیں کرسکتی جس کے لئے ماں خود کفیل ہو وہ ،ماں اگر خود کفیل ہوئی  اور احساس کمتری سے باہر نکل گئی تو وہ اپنے بچوں میں دُنیاں کی تمام خوبیاں بھر سکتی ہیں ،مسجد ریاض الصالحین کے خطیب و امام مولانا امجد علی ندوی نے کہا عورتوں میں اگر ہنر ہو اور وہ اپنے گھر ہی میں رہ کر اپنے ہنر کو معاش کا ذریعہ بناکر اپنی اولاد کو ہر طرح سےسنوار سکتی ہے علمی اعتبار سے بھی ایک ماں اگر بیدار ہوتی ہے تو وہ اپنے ساتھ پورے معاشرے کو بیدار کرسکتی ہے،اس دور میں عورت کا معاشی اعتبار سے خود کفیل ہونا معاشرے کیلئے بے حد مفید ہے۔اردوصحافی الطاف رضوی نے نوبل ویژزن کے ذریعہ گاوں میں دی جارہی خدمت خلق اور سلائی تربیت کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئےنوبل ویژن سے جڑے تمام احباب کو مبارک پیش کرتے ہوئے سراہنا کی اور کہا کہ بہتر معاشرے کیلئے تمام دُنیاوی معاملات کو مذہبی طور پر دیکھنے سمجھنے  اور مذہبی طور پرعمل کی ضرورت ہے ،ایمان نہیں دین نہیں تو کچھ بھی نہیں یہ دُنیا چار روزہ ہے یہاں توگذر جائے گی معاشی تنگدستی بھی مگر دُنیا کے تمام معاملات کو مذہب کی بنیاد پر ہی قائم کرنا پائیدار معاشرےکی ضمانت ہے۔صدرِاجلاس افروز علی خان نے نوبل ویژن کے ذریعہ اُنہیں دی گئی ذمہ داری اور اس کام میں اُنہیں تعاؤن کرنے والے سبھی رفقاء کا شکریہ ادا کیا اور اپنے صدارتی کلمات کے ذریعہ تمام تربیت یافتہ طلباءسے اپیل کی اور کہا کہ یہ سلسلہ یہاںپر ختم نہیں ہوتا اس کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے دوسری تیسری ٹیم کے ذریعہ بھی یہ سلسلہ آگے بڑھتا ہی رہے گا۔چھ ماہ کی اس تربیت سے سب کچھ سیکھ چکے ہوں ایسا ہرگز ہونہیں سکتا ،آئندہ بیاچ میں بھی حصہ لیں تاکہ مزید تربیت حاصل کی جاسکے اور تربیت حاصل کرنے کے بعد آپ کو سلائی مشین اور کام دونوں آپ کو اپنے گھر سے ہی کرنے کی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جائیگی۔کیرےبلچی گرام پنچایت چیرمن دراکشنمہ بھی اجلاس میں شریک رہی، وظیفہ یا ب معلمہ افروز خانم نے بھی خطاب کیا ۔استقبالیہ و شکریہ کے فرائض سہیل احمد خان نے ادا کئے، علی جان اور مصفل نے شرکاء کی خاطر تواضع کی ،مولانا امجد علی ندوی کے ذریعہ دُعا کے ساتھ اجلاس کا اختتام ہوا۔