بقر عید کے قریب آتے دیکھ سنگھ پریوار حرکت میں ؛ قانون کے مطابق قربانی کیلئےمطالبہ کرسکتے ہیں مسلمان !!

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شیموگہ : کرناٹک میں انسداد گائوکشی قانون کو منظوری ملنے کے بعد بڑے جانوروں کو ذبح کرنا نہایت مشکل کام ہوچکا ہے ایسے میں مسلمانوں کے لئے اور ایک اہم مسئلہ یہ پیدا ہوچکا ہے کہ وہ اس دفعہ بڑے جانوروں کے ذبح کو بغیر کسی جوکھم کے انجام نہیں دے سکتے کیو نکہ اس دفعہ سنگھ پریوار پہلے سے زیادہ سرگرم ہو چکا ہے اور بڑے جانوروں کے ذبح کرنے سے روکوانے اور مذبح خانوں کو مستقل طورپر بند کروانے کے لئے سرکاری اہلکاروں اورپولیس کے اعلیٰ افسروں سے رجو ع کرنا شروع کرچکا ہے ۔ اسی سلسلے میں بجرنگ دل اور وی ہیچ پی کے کارکنوں نے متعلقہ افسروں کے رابطے میں آچکے ہیں ۔ انسداد گائوکشی قانون کے مطابق گائے ، بیل ، بچھڑا اور کم سن بھینسوں کو ذبح نہیں کیاجاسکتااور نہ ہی ان جانوروں کے نقل و حمل کو انجام دیاجاسکتاہے ایسے میں گائو کشی قانون کا سہارا لے کر بقرعید کے موقع پر سنگھ پریوار کے لوگ بوال کھڑا کرسکتے ہیں اور جانوروں کی آڑ میں انسانوں کی جانیں نکال سکتے ہیں ۔ ایسے میں مسلمانوں کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ مسلمان قانون کے مطابق بھینسوں کی قربانی کی اجازت لینے کے لئے پہل کریں اور اگر اس پر پولیس وانتظامیہ کی جانب منظوری مل جائے تو ذبح وغیر ہ کے لئے آسانی پیدا ہوسکتی ہے ۔ دوسری طر ف سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ جو لوگ کسی طرح سے بڑے جانوروں کی قربانی کے لئے جانور خریدتے ہیں وہ ہرگز بھی جانوروں کی نمائش کرنا ، جلوس نکالنا اور سڑکوں پر لے کرگھومنے کے کام کو انجام نہ دیں ورنہ اسکی بھاری قیمت پورے مسلمانوں کو چکانی پڑھ سکتی ہے ۔ مسلمانوں کا دانشور طبقہ قانون کے مطابق بقرعید میں جانوروں کی قربانی کے لئے انتظامیہ سے اجازت لینے کے لئے پہل کرتاہے تو یہ ایک طرح سے پیشگی احتیاطی تدبیر ہوسکتی ہے ۔