شیموگہ:لوک عدالت سے فریقین کو بہت آسانی فراہم ہوئی ہے۔ رضامندی کے ذریعہ مقدمات کو حل کرنے سے لوگوں کا پیسہ اوروقت دونوں ہی محفوظ ہورہا ہے۔ ان باتوں کا اظہار شیموگہ چیف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مصطفیٰ حسین نے کیا ہے۔ انہوں نے آج شیموگہ عدالت میں قومی لوگ عدالت کے پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے صارفین کو چک تقسیم کیا ۔اس دوران انہوں نے بتایا کہ شیموگہ ضلع کی لوک عدالت میں آپسی اتفاق ورضامندی سے 10070مقدمات کا نمٹارہ کیا ہے۔بقیہ کئی مقدمات بھی سلجھنے کے ممکنہ امکانات ہیں۔ شیموگہ تیرتھ ہلی ہائی وے حادثے کا شکار ہونے والے شرت نامی نوجوان کے اہل خانہ کو 28 لاکھ روپئے معاوضے کا چک اس لوک عدالت میں دیا گیا۔ پچھلے سال 20 فروری 2021 میں پیش آنے والے حادثے کے معاملے میں لوک عدالت میں 4.1ماہ کے اندر اندر رضامندی کے ذریعہ معاوضہ فراہم کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں رضامندی کے ذریعہ سلجھائے جانے والے معاملات کے بعد فریقین کو اوپری عدالت میں چیلنج کرنے کا موقع نہیں دیا جائیگا۔ کم سے کم وقت میں فیصلے کرناہی لوک عدالت کی خاصیت ہے۔ مزید بتایا کہ بہت سے فریقین اوربینکرس، انشورنس کمپنیاں لوک عدالت کی سہولیات سے مستفید ہورہے ہیں۔ اس موقع پر بار اسوسیشن کے صدر شیومورتی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کئی مثالیں ہیں جس میں چار سے 5 سال عدالتوں کے چکر لگائے جانے والے معاملات بھی لوک عدالت میں تکمیل کو پہنچائے گئے ہیں۔یہاں وقت اورپیسہ دونوں ہی ضائع ہونے سے محفوظ رہتا ہے۔ وکلاء کو بھی کوئی فیس نہیں دینی پڑتی ہے۔اس موقع پر لیگل سروس اتھارٹی کے رکن و سکریٹری راجناسنکناور وغیرہ موجودتھے۔
