بنگلورو:۔کرناٹک میں کل یعنی ہفتہ کے دن سے کانگریس پارٹی کی حکومت اقتدارمیں آئیگی،سابق وزیر اعلیٰ سدرامیا دوسری دفعہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کیلئے حلف اٹھائینگے،وہیں ڈی کے شیوکمار نائب وزیر اعلیٰ کے طورپر حلف لینگے،اسی طرح سے اہم سینئر ایم ایل ایز کو بھی کا بینہ میں شامل کیا جا ئیگا ۔ کرناٹک میں کانگریس پارٹی کی قیادت میں تشکیل پارہی اس حکومت میں وزرات حاصل کرنے کیلئے کئی ایم ایل ایز جدوجہد کررہے ہیں جبکہ مسلم ایم ایل ایزبھی اس دوڑمیں شامل ہیں،خصوصاً ضمیر احمد کو نائب وزیر اعلیٰ بنانے کیلئے مسلم طبقے سے مطالبہ کیا جارہاتھا،مگر ایسے حالات دکھائی دے رہے ہیں کہ کابینہ میں مسلمانوں کو صرف کابینٹ وزیر کا ہی عہدہ دیا جائیگا ۔ ضمیراحمد کے علاوہ نصیر احمد،یوٹی قادر،رحیم خان ، تنویرسیٹھ اور رضوان ارشد بھی وزارت حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کررہے ہیں ۔شیموگہ سے مدھو بنگارپاکو وزارت ملنا کم وبیش طئے ہے ۔وہیں بھدراوتی کے رکن اسمبلی بی کے سنگھ میش بھی وزارت کے خواہشمند ہیں،لیکن ان کی صحت کے مدِ نظر انہیں نظرانداز کرنے کے امکانات بھی ہیں ۔ پہلے مرحلے میں 15 تا20 وزراء کو حلف دلوایاجائیگا،بقیہ وزراء کی حلف برداری کی بات دوسرے مرحلے میں ہونے کی بات سامنے آرہی ہے ۔ وزارت کے خواہشمند اراکین میں خیمہ لگائے ہوئے ہیں۔مدھو بنگارپاکو سدرامیا کی کابینہ میں پہلے مرحلے میں ہی وزارت ملنے کے امکانات ہیں،مدھو بنگارپانے اپنے بھائی بی جے پی کے امیدوار کماربنگارپاکو 40 ہزارووٹوں کو شکست دی تھی۔حالانکہ مدھو بنگارپاکو کانگریس میں شامل ہونے کے بعد کئی اہم عہدے دئیے گئے ہیں،جس میں اے آئی سی سی کی رکنیت،کے پی سی سی کے اوبی سی شعبے کے ریاستی صدر اور کانگریس کےا نتخابی منشورکمیٹی کے نائب صدرکے عہدے پر بھی اُنہیں نامزدکیاگیاتھا۔مدھو بنگارپا کے علاوہ شیموگہ ضلع میں بی کے سنگھ میش اور بیلور گوپال کرشنابھی اہم دعویدارہیں،جنہیں کابینہ میں شامل کرنے کیلئے ان کے اپنے حلقوں سے مطالبہ کیاجارہاہے۔
