بنگلورو: حجاب اور زعفرانی شال تنازعات نے ریاست بھر میں طلباء کی تعلیم کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کےریاستی صدر ایڈوکیٹ طاہر حسین نے یہ الزام لگایا ہے۔ انہوں نے حجاب اورعدالت کے عبوری فیصلے کے بارے میں ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ عبوری اور آخری فیصلہ آنے تک کسی بھی اسکول یا کالج کے طلباء کوتعلیم سے محروم نہ کیا جائے اور کلاس میں حاضر ہونے کی ہدایت دی ہے، لیکن کلاس روم میں کسی بھی مذہب کے حجاب یا زعفرانی شال یا پھر پرچم کے داخلے پر پابندی عائد کی ہے۔ لیکن اب جوہو رہا ہے وہ عدالت کے فیصلے کے خلاف ہے۔ بیشتر تعلیمی انتظامیہ اسکولوں اور کالجوں میں طلباء کو گیٹ کے باہرہی روک رہے ہیں جس کے بعد کچھ میڈیا طلباء کو ہراساں کر رہا ہے۔یقیناً یہ سب کچھ عدالت کے فیصلے کے مخالف ہے۔ پہلے ہی کورونا سے مناسب تعلیم کے بغیر طلباء مشکلات کا شکار ہیں، اس وقت جو سلوک طلباء کے ساتھ برتاجارہا ہے وہ ان کے زخموں پر زخم دینے کا کام کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو عدالت کے عبوری فیصلے کا صحیح مطلب سمجھنا ہوگااور صرف کلاس روم میں ہی مذہبی علامت والے لباس پہننے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ اسکول اورکالج کیمپس میں پہننے پر کوئی پابندی نہیںہے۔ اس بات کو سمجھے بغیر ہی طلباء کو گیٹ کے باہر روک دیا جارہاہے۔ تعلیمی اداروں کے انتظامیہ کو عدالت کا اگلافیصلہ آنے تک بچیوں کو گیٹ کے اندر کلاس لینے کی اجازت دینی چاہئے۔ انہوں نے اس بات کا بھی مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامی عدالتوںکو اس طرح کی خلاف ورزیوں کو روکنے اور بچوں کو ہراسانی سے بچانے کیلئے اقدامات اٹھانے چاہئے اور اسطرح کی بدسلوکی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔امتحانات کے قریب اس طرح کے حالات کا طلباء پر برا اثر نہ پڑے ویلفیئر پارٹی آف انڈیا اسکاخیال رکھنے پر زوردیا ہے ۔
