انسداد گائوکشی قانون کا اثر ؛ بقر عید میں بڑے جانور خرید نے کیلئے ہورہاہے ڈر

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ :کرناٹک میں انسداد گائو کشی قانون کو نافذ کئے جانے کے بعد امسال بقر عید کے موقع پر مسلمان بڑے جانوروں کی خریدار کو لے کر تذبذب کا شکار ہیں اور بڑے پیمانے پر لوگ اس دفعہ جانوروں کی خریدار ی کو لے کر ڈررہے ہیں جبکہ بڑے جانوروں کی خریداری نہ کرنے کی وجہ سے ریاست میں امسال بکروں کی مانگ میں اضافہ ہواہے اور مسلمان بکروں کی قربانی کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ ریاست میں گائورکشا قانون نافذ ہونے کے بعد امسال پہلی دفعہ عید الاضحی منائی جارہی ہے لیکن اس بار عید کے موقع پر بڑے جانوروں کی خرید و فروخت کو لے کر مسلمان پریشان ہیں ۔ پچھلے پانچ دنوں سے کرناٹک کے ہبلی ، داونگیرہ اور شیموگہ ضلع کے مختلف مقامات پر قصائی خانوں اور گھروں کے پاس باندھے گئے بیل ، گائے جیسے جانوروں کو محکمہ پولیس، محکمہ مویشی پالن اور روینیو ڈیپارٹمنٹ کے افسروں نے چھاپہ مارتے ہوئے جانوروں کو اپنی تحویل میں لیا ہےاسکے علاوہ کئی مقامات پر جانوروں کو منتقل کرنے کے دوران بھی پولیس نے چھاپہ مارکر جانوروں کو ضبط کیاہے ۔ وہیں دوسری جانب مسلمانوں کی جانب سے اس معاملے میں حکومت سے تبادلہ خیال کرنے ، پولیس یا ضلع انتظامیہ کو منوانے کے لئے بھی مسلمانوں کی اعلیٰ و مقامی قیادت کی جانب سے پیش رفت نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے قربانی دینے والوں میں یہی سوال اٹھ رہاہے کہ کل کچھ کم و پیشی ہوجائے تو اس وقت تائید کرنے یا پھر بچانے آئیگا کون ؟۔ ریاست کے کئی علاقوں میں بڑے جانوروں کے بازار لگتے ہیں جہاں پر عیدکے موقع پر ہزاروں جانوروں کی خریدو فروخت ہوتی ہے لیکن پچھلے دو ہفتوں سے عید کے لئے بڑے جانور خریدنے والے بازار کا رخ نہیں کئے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے کسان پریشان ہونے لگے ہیں ۔واضح ہوکہ انسداد گائو کشی قانون کے مطابق بڑے جانوروں کو ذبح کرنا ممنوع ہے، اگر جانوروں کوذبح کرتے ہوئے کوئی پکڑا جاتاہے اسکے خلاف قانونی کارروائی ہوگی جس میں انہیں جیل جاناپڑسکتاہے اور جرم ثابت ہونے پر 7 سال تک کی سزااور 50 ہزار روپئے تک جرمانہ لگا جاسکتاہے ۔ سخت قانون کے پیش نظر اس دفعہ قصائی خانوں میں بھی نہایت احتیاط برتی جارہی ہے ۔