مسلمانوں کی میڈیا سے دوری مسائل کے حل کو لیت ولعل کاشکار بنائیگی

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو(محمدیوسف رحیم بیدری):ہند کامسلمان کہاجاتاہے کہ گودی میڈیا کے نشانہ پر ہے۔اس سے متعلق چھوٹی سے چھوٹی خبر گودی میڈیا تک پہنچتے پہنچتے بڑی اور سنگین بن جاتی ہے۔ دوسری جانب زمینی صورتحال یہ ہے کہ مسلم قائدین کی میڈیا سے دوری اظہرمن الشمس ہے۔ میڈیا(اخبارات ، ریڈیو، رسائل وغیرہ) سے رابطہ کرنے کے بجائے آج کا مسلمان سوشیل میڈیا (یوٹیوب چینل ، فیس بک، واٹس ایپ ، انسٹاگرام پر خبریں چلانے والے گروپ)سے رابطہ رکھا کرتاہے۔ سوشیل میڈیا پر کچھ کہہ کر اپنی بھڑاس نکال لیتاہے۔ اس کو اس بات سے غرض نہیں کہ اس طرح کے عمل سے مسئلہ حل ہوتاہے یانہیں ۔ کبھی کبھی تو ایسا لگتاہے کہ مسلمان لیڈر کی غیرسنجیدگی مسلمانوں کے مسائل حل نہ ہونے کی وجہ ہے۔ مسلمان یامسلمان لیڈر جب سوشیل میڈیا کے ذریعہ بات کرے گا اور میڈیا کوچھوڑ دے گا تو آیا اس کے مسائل حل ہوسکتے ہیں؟کتنے ایسے مسلم لیڈرس ہیں جو میڈیا ہاؤس یا اخبارات کے دفاتر جاکروہاں کے ذمہ داران سے دلچسپی کے موضوعات یاپھر حالات حاضرہ یا متعلقہ ایشوز پر بات کرتے ہیں؟ اسی ایک بات سے مسلم لیڈرشپ کی سنجیدگی کاپتہ چل سکتاہے۔ سوشیل میڈیا پر کسی چیز کے آنے سے ہلچل ضرورپید اہوسکتی ہے ، مسئلہ اٹھایاجا سکتاہے ۔لیکن میڈیا میں کوئی چیزآنے سے حکومت اس پرسنجیدگی سے غور کرتی ہے اور اپوزیشن بھی اس چیز کو مان سکتاہے۔ آج سوشیل میڈیا جتنا چاہے شور مچالے لیکن میڈیا کی سنجیدگی اور اس کی محنت ومشقت سے تیارکی گئی آنکڑوں سمیت والی رپورٹنگ تک سوشیل میڈیا پہنچ نہیں سکتا۔کیونکہ سوشیل میڈیا کے پاس ان ذرائع ووسائل کی کمی ہے وہ وہاں تک پہنچ نہیں پاتاجہاں تک میڈیا پہنچ سکتاہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ کوئی یہ سمجھ لے کہ سوشیل میڈیاآج جو چاہے کرسکتاہے۔اسی نے ہمارے مسائل اٹھائے ہی۔ مسائل اٹھانے سے زیادہ اہم مسائل کو حل کرناہے۔ آخر میں اتنی ہی گذارش ہے کہ میڈیا اور سوشیل میڈیا کے فرق کو مسلمان مردوخواتین، مسلم ادارے، مسلم طلبہ وطالبات اور علمائے کرام پہلے سمجھیں اور اپنے مسائل کوسنجیدگی کے ساتھ متعلقہ پلیٹ فارم سے حل کروائیں۔ غیر سنجیدگی یاسوشیل میڈیاپر مسائل کابکھان کرنے سے اس کا حل طوالت کی نذر ہوسکتاہے۔ سیاسی پارٹیوں کے لئے سوشیل میڈیا ٹھیک ہوسکتاہے ، لیکن ملی مسائل کے حل کے لئے میڈیا کا پلیٹ فارم انتہائی اہم ہے۔اورا س پلیٹ فارم کوترک کرنا اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگا۔