شیموگہ:مختلف وارڈوں میں پینے کے پانی کے مسئلہ کو لے کر آج منعقدہ کارپوریشن کےعام اجلاس میں کافی ہنگامہ ہوا اور اراکین نے عہدیداروں کے خلاف برہمی کا اظہار کیا۔اہم بات یہ ہوئی ہے کہ ضلعی نگران کار وزیر نے پانی کے مسئلےکے بارے میںسٹی واٹر سپلائی بورڈ کے افسر ان کے ساتھ صرف بی جے پی کے اراکین کے ہمراہ نشست کی ،اس نشست میں اپوزیشن پارٹی اراکین کو باز رکھا گیا جس کو لیکر اپوزیشن نے شدید برہمی کا اظہار کیا اورکہا کہ کیا دوسری پارٹیوں کے وارڈ میں رہنے والے لوگ انسان نہیں ہیں؟ وہاں کے مسائل پر کون بحث کریگا؟ ایم ایل اے اور بی جے پی بورڈ ممبران کا یہ عمل ناقابل معافی جرم ہے۔ جمہوریت کیلئے یہ نقصان دہ ہےکہتے ہوئےاپوزیشن لیڈر ایچ سی یوگیش اور ناگراج کنکاری نے برہمی کا اظہار کیا۔یوگیش نے آلودہ پانی کی بوتل دکھاتے ہوئے کہا کہ صرف آدھے گھنٹے تک پانی چھوڑا جا رہا ہے وہ بھی اسطرح کا آلودہ پانی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کل شیشادری پورم وارڈ میںمقامیوں نے وزیر کی گاڑی کو روک کر ان سے سوال کیا تھالیکن وزیرنگران کارلوگوں کو جواب دینے میںناکام ہوئے ہیں۔ 24*7شفاف پانی کا منصوبہ جس کو مارچ تک مکمل ہونا تھا، ابھی تک مکمل نہیں ہوسکا۔ ٹھیکیداروں اور افسران کو کوئی دلچسپی نہیں۔ اسے پہلے ہی 98 کروڑ روپے جاری کیا گیاہےاور 40 فیصدکام بھی مکمل نہیں کیا گیاہے۔ افسران جھوٹ بول رہے ہیں کہ 80 فیصد کام ہوا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا آدھا گھنٹہ پانی چھوڑنا کافی ہوگا؟یہ اجلاس تقریباً ایک گھنٹے تک شور و غل کے ساتھ جاری رہا۔ حکمران جماعت کے رہنما ءچنبسپانے کہا کہ یہ سچ ہےکہ مسئلہ ہے۔ ہم نے برسات کے موسم میں پیدا ہونے والے مسائل کا مطالعہ کیا ہے اور مستقل حل کی راہ نکالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر رکن اسمبلی ذاتی طور پر میٹنگ بلاتے ہیں تو میٹنگ میں آپ کومدعوکرنا حق ہے۔جل منڈل کے اے ای رمیش نے کہا کہ بارش کی وجہ سے آبپاشی پمپ پانی میں ڈوب گئےہیں ۔ پچھلے ایک ہفتہ سے اس میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔ اس وقت پانی کی فراہمی میں مسئلہ ہے جب پمپنگ میں فرق ہوتا ہے تو کئی جگہوں پر پانی کی فراہمی میں مسئلہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسمارٹ سٹی کے تعمیری کاموں کی وجہ سے کئی جگہوں پر پانی کی سپلائی کے پائپوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس موقع پر رکن لکشمی شنکر نائک نے کہا کہ 12 دوپہربجے ہمارے وارڈ میں پینے کا پانی چھوڑ اجارہا ہے۔ وہاں کے تمام رہائشی مزدور ہیںاور دوپہر میں پانی بھرنے کی خاطر اپنے ایک دن کی مزدوری کو کھوکر انہیں پانی کی ضرورت کو پورا کرنا پڑرہا ہے۔لہٰذاصبح 9 بجے سے قبل پانی چھوڑنے کا اصرار کیاگیا۔ اجلاس میں میڈیا کو میٹنگ کی معلومات نہ دینے پر برہمی کا اظہار بھی کیا گیا۔ اپوزیشن لیڈر یمنا رنگے گوڑا اور یوگیش نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نشست میڈیا کے بغیر ہو رہی ہے آخر حکمران پارٹی کی خامیوں کی معلومات بھی عوام کو معلوم ہونی چاہئے۔ اس کے ردعمل میں میئر سنیتاانپا نے کہا کہ ایک ہفتہ قبل نامہ نگاروں کو اطلاع دی گئی تھی۔نشست میں پینے کے پانی اور اسمارٹ سٹی کے کاموں کے بارے میں غور و خوض کیا گیا، ڈپٹی میئر شنکر گنی، کارپوریشن کمشنر ماینا گوڑا موجود تھے۔
