غیر شادی شدہ ماں کا بچہ بھی ملک کا شہری ہے، ماں کا نام دستاویزات میں لکھا جائے، کیرالہ ہائی کورٹ

سلائیڈر نیشنل نیوز
کیرل:۔کیرالہ ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی شناخت سے متعلق دستاویزات میں والد کے نام کا ذکر نہ کرے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ درخواست گزار کے والدین کے طور پر صرف ماں کے نام پر سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے۔ اپنے فیصلے میں مہابھارت کے کرنا کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ایسے بچوں کی حالت زار کو واضح طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔جسٹس پی وی کنہی کرشنن نے کہا کہ غیر شادی شدہ یا ریپ کا شکار ماں کا بچہ بھی ہمارے ملک کا شہری ہے۔ اس کے بنیادی حقوق کوئی نہیں چھین سکتا۔ آئین نے اسے یہ حقوق دیے ہیں۔ وہ اس ملک کا بچہ ہے۔ کوئی بھی اس کی پرائیویسی، وقار اور آزادی کا حق نہیں چھین سکتا۔ اگر ایسا ہوا تو ہم اپنے حقوق کا تحفظ کریںنگے۔سماعت کے دوران کہی جس میں ایک خاتون کم عمری میں حاملہ ہو گئی تھی۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کے بچے کا باپ کون تھا۔ جس کی وجہ سے بچے کی شناخت سے متعلق دستاویزات میں باپ کا نام تین جگہوں پر مختلف لکھا گیا ہے۔ حالانکہ ماں کا نام ہر جگہ ایک ہی ہے۔ 1969 کے رجسٹریشن آف برتھ اینڈ ڈیتھ ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ رجسٹرار آف برتھ اینڈ ڈیتھ کو دستاویزات میں درج ناموں کو درست اور تبدیل کرنے کا حق حاصل ہے۔جسٹس کنہی کرشنن نے کرنا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جس میں کرنا نہ ہو۔ ایسے بچے ہمیشہ اپنی زندگی پر لعنت بھیجتے ہیں۔ انہیں اپنے والدین کے نام نہ جاننے کی وجہ سے ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس کے بعد عدالت نے برتھ سرٹیفکیٹ سے والد کا نام ہٹانے اور والدین کے طور پر صرف ماں کا نام رکھنے والے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی ہدایت کی۔اہم بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے ملک کے تمام چیف رجسٹرار آف برتھ اینڈ ڈیتھ کو خط بھیجا ہے، جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ پیدائش کے ریکارڈ میں سنگل والدین کا نام لکھا جائے۔ دوسرے والدین کے نام کا کالم خصوصی مطالبے پر مٹا دیا جائے۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ پیدائشی سرٹیفکیٹ، شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات میں اکیلے ماں کا نام شامل کرنا کسی شخص کا حق ہے