جوڑنے زیادہ توڑنے میں لگی ہوئی ہے قوم

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
ایک دیہاتی کسی شہر میں فٹ بال کھیلتے ہوئے لوگوں کو دیکھا اور اس نے قریب میں کھڑے ایک بزرگ سے پوچھا چاچا اس گیند کی کیا غلطی ہے جو سارے مل کر اسے لاتوں سے مار رہے ہیں ،اس پر بزرگ نے جواب دیا،اس گیند کی سب سے بڑی غلطی یہ ہےکہ ہر کوئی اس کے ذریعے اپنی منزل پر پہنچنا چاہتاہے ،یعنی گیند کا گول کرنا چاہتاہے،ورنہ کسی کی کیا مجال کہ اسے لاتوں سے مارے۔بلکل اسی طرح سے مسلمانوں کو لات سے مار کر اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں لگا ہواہے،موجودہ دورمیں ہم مسلمانوں کا یہی حال ہے کیونکہ ایمان بس زبان پر ہے اور اندرسے خالی ہے۔یہی حال اتحا د کا ہے جس کے تعلق سے بڑے بڑے جلسہ و بیانات منعقد ہوتے ہیںلیکن عمل کے معاملے میں ہم کوسوں دور ہیں۔پچھلے چند دنوں سے ہندوستان کے مختلف ریاستوںمیں برمی مسلمانوں پر ہورہے ظلم وستم کے خلاف احتجاج کئے جارہے ہیں،جن میں مسلمانوںکی درجنوں تنظیمیں ان احتجاجات کی قیادت کررہی ہیں،اس کے علاوہ ہندوستان میں جاری مسلمانوں کی حق تلفی کے تعلق سے بھی مسلمانوں کی چند ملّی و سیاسی جماعتیں احتجاج کررہے ہیں،جلسوں کا انعقاد کررہی ہیں اور حکومتوں پر مسلمانوں کے حقوق کیلئے دباؤ بھی ڈال رہے ہیں۔ہندوستانی مسلمان جہاں ایک طرف اپنی بیداری کا ثبوت پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو وہیں دوسری جانب مسلمانوں کا ہی ایک گروہ مسلمانوں کے پیر کھینچنے کیلئے کوششیں کررہا ہے۔جن مسائل کو لیکر لوگ اتحادقائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں،اُس اتحادمیںدارایں ڈالنے کیلئے بھی ہمارے درمیان بڑے پیمانے پر تحریکیں جاری ہیں۔جو اُمت مسلمہ کی بقاءکیلئے آگے بڑھ کرکام کررہے ہیں انہیں روکنے کیلئے حکومتیں اور پولیس اہلکار کمر بستہ ہیں ہی لیکن ہماری قوم کے کچھ لوگ بھی مسلمانوں کے خلاف بدگمانیاں پھیلانے اور مسلمانوں کے تحریکی کاموں کو روکنے کیلئے بھی ایڑی چوٹی کازور لگا رہے ہیں۔جس طرح سے حضرت ٹیپوسلطان کے دورمیں میر صادق نے غداری کرتے ہوئے انگریزوں کو ریاست میسور پر حملہ کرنے کا موقع دیا،آج اسی طرح سے ہمارے درمیان موجود کچھ میر صادق مسلمانوں کے ہر کام کو توڑنے کیلئے پولیس کی مخبری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔جس کی وجہ سے قوم کیلئے اٹھنے والی آوازیں وقت سے قبل ہی دب جاتی ہیں۔جو لوگ اس طرح کی غداری کرتے ہیں وہ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ جب ان کی میت جنازے میں ڈالی جائیگی تو انہیں کندھا دینے کیلئے پولیس یا سرکاری اہلکار شامل نہیں ہونگے بلکہ ان کے اپنے ہی قوم ان کی میت کو کندھا دیکر قبرستان میں دفن کریگی،لیکن اس بات کو محسوس کرنے کے بجائے یہ لوگ کھلے طو رپر غداری کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔بعض موقعوں پر جب کہیں فرقہ وارانہ فسادات ہوتے ہیں یا معاملات پیچیدہ ہوتے ہیںاس وقت مسلمان متحد ہوکر کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہاں روکاٹیں مسلکوں کو بنیاد بناکر پیدا کی جاتی ہیں،ہم دیکھ رہے ہیں کہ پچھلے کچھ دنوں سے برماکے مظلوم مسلمانوں پر جو ظلم ڈھائے جارہے ہیں،اس سلسلے میں ہندوستان کے مسلمان مسلسل احتجاج کررہے ہیں،وہیں دوسری جانب ان مسلمانوںکی ہمت کو پست کرنے کیلئے رہنماؤںکی شکل میں سیاست کرنے والے کچھ لوگ ان مظلومین کی حمایت کرنے کے بجائے یہ کہہ کر پولیس اور انتظامیہ میں ہیرو بننے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے فساد برپا کیا ہے وہ ہمارے اپنے علاقے کے نہیں ہیںبلکہ کسی اور علاقے سے آ بسے ہوئے ہیں۔کچھ سال قبل تک جب کسی گاؤںمیں کسی مسلمان کا قتل ہوتا یا پھر کسی کو زخمی کیا جاتا ،اُس وقت تمام مسلمان متحد ہوکر مظلوم مسلمانوں کی مددکیلئے دوڑے چلے جاتے۔لیکن آج حالات اس قدر بدتر ہوگئے ہیں کہ پڑوس کے گھر پر یا پڑوس کی گلی پر شرپسند حملہ کرتے ہیں تو مسلمان یہ کہہ کر خاموش رہ جاتے ہیں کہ یہ معاملہ ہمارا نہیں ہے۔اب مسلمان ہی انصاف کیلئے متحد ہونے کے بجائے گلی محلوں کو اپنے اپنے طو رپر بانٹ لئے ہیں جس کی وجہ سے مسلمانوں پر ظلم کی شدت بڑھتی جارہی ہے ۔اسی طرح سے احتجاج و دھرنوں کے دوران اس بات کو بھی دیکھا گیا ہے کہ یہ تو فلاں جماعت کے لوگ ہیں،یہ فلاں تنظیم کے لوگ ہیں،اگر ہم ان کی قیادت میں یہ کام انجام دیتے ہیں تو اس سے ان کی شہرت میں اضافہ ہوگایا پھر مسلمانوں پر کڑی آزمائشیں اترسکتی ہیں۔موجودہ سنگین حالات میں مسلمانوں کو چاہےے کہ وہ اتحاد کا مظاہرہ کریں ،شریعت کا معرفت پر نہ صحیح کم ازکم عمومی مسائل پر توجہ دینے کیلئے متحد ہوجائیں۔اگر آپسی اختلافات و انتشار کے معاملات یوں ہی بڑھاتے جائیں تو وہ دن دور نہیں ہوگا کہ مسلمانوںکیلئے یہ زمین بھی تنگ ہونے لگے گی۔