بنگلورو:۔فرقہ وارانہ تقاریر کے34 معاملات کو واپس لینے کا ریاستی حکومت نے جو فیصلہ کیاہے وہ تشویشناک فیصلہ ہے اور اس کی شدید مذمت کرنے کی ضرورت ہے۔اس بات کااظہار ویلفیر پارٹی آف انڈیاکے ریاستی صدر اڈوکیٹ طاہر حسین نے کیاہے۔محکمہ پولیس اور محکمہ قانون کی مخالفت کے باوجود اس طرح کا فیصلہ لینا براہِ راست فرقہ پرستی کی تائید کرنے کے برابرہے۔فرقہ پرستی،بدعنوانی کے ایسے معاملات ماضی میں کبھی نہیں دیکھے گئے ہیں ،ریاست کی عوام کی فلاح پر ترجیح دئیے بغیر فرقہ پرستی و بدعنوانی کوبڑھاوادینے کیلئے ریاستی حکومت کام کررہی ہے۔ہماری ریاست کے وزیر اعلیٰ دوسری ریاست کو جس وقت گئے تھے وہاں پر اُن کا استقبال کرنے کیلئے 40 پرسنٹ سی ایم کا بیانر لگایاگیاتھا،تو اندازہ لگاناہوگاکہ ریاست میں بدعنوانی کس حدتک بڑی ہوئی ہے۔کرناٹکا سیکولرازم کا اہم علاقہ ہے اور اسے امن کاباغ کہاجاتاتھا،لیکن بی جے پی کے اقتدارمیں آنے کے بعد سے یہاں کے سیکولرروایتیں اور تہذیب زمین بوس ہوچکی ہیں۔عوام کی زندگی کو بہتر بنانے کے بجائے حکومت خودہی نمائندگی کرتے ہوئے فرقہ پرستی کو بڑھاوادے رہی ہے جو ہماری بدقسمتی ہے۔فرقہ پرست روایت کو چھوڑ کر عام لوگوں کی ترقی کیلئے حکومت منصوبے بنائے،کسان طبقہ،مزدور اور متوسط طبقے کے لوگوں کی فلاح وبہبودی کیلئے کام کرے۔
