یڈی یورپا اوران کے اہل خانہ کو سپریم کورٹ سے عبوری راحت

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر

بنگلورو:۔ سابق وزیراعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا کے خلاف لوک آیکتہ پولیس کی جانب سے داخل ایف آئی آر کی بنیاد پر تفتیش کرنے سپریم کورٹ نے آج جمعہ کے دن روک لگادی ہے۔(اِسٹے) جس کے نتیجہ میں ایڈی یورپا کو ایک بڑی راحت ملی ہے۔ایک ٹھیکہ دار کو رشوت لے کر بنگلور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (بی ڈی اے) کا ٹھیکہ دینے کے الزام میں ایڈی یورپا اوران کے اہل خانہ کے خلاف لوک آیکتہ پولیس نے ایف آئی درج کیا ہے۔ سینئر وکلاء مکل روہٹگی اور سدھارتھ داوے نے سپریم کورٹ میں ایڈی یورپا کی پیروی کی۔دونوں وکلاء نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ کرناٹک ہائی کورٹ میں جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ کی قیادت والی بنچ نے ایڈی یورپا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے معاملے میں چند حقائق کو نظرانداز کیا ہے۔ دونوں وکلاء کی بحث سننے کے بعد جسٹس ہما کوہلی نے اس معاملے میں عرضی گزار سماجی کارکن ٹی جے ابراہم کونوٹس جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔اس معاملہ پر سماعت کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ معاملہ کی جانچ پڑتال کرے گا۔ رواں سال کے آغاز میں ہائی کورٹ نے یہ کہتے ہوئے ایڈی یورپا اور اہل خانہ کے خلاف سانکشن کو مسترد کردیا تھا کہ ایڈی یورپا کے خلاف کارروائی کرنے کے درمیان سانکشن قابل قبول نہیں۔ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے ایڈی یورپا نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ماہ جولائی 2021 میں خصوصی عدالت نے ابراہم کی شکایت پر یہ کہتے ہوئے کارروائی کرنے سے انکار کردیا تھا کہ سی پی سی کی دفعہ 156(3) کے تحت تفتیش بغیر کسی منظوری کے نہیں کی جاسکتی۔ عرضی گزار نے ایڈی یورپا اور دیگر پر الزام لگایا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایک ہاؤزنگ کامپلکس کی تعمیر کا ٹھیکہ ایک تعمیری کمپنی کو 12کروڑ روپئے رشوت لے کر دیاگیا ہے۔اس وقت سال برائے 2019-21میں ایڈی یورپا اس ریاست کے وزیراعلیٰ تھے۔