ہبلی:۔جہاں ایک طرف بھارت کے سیکولر لوگ آر ایس ایس کو بھارت کیلئے نقصان مان رہے ہیں،خصوصاً اقلیتی مسلمانوں کیلئے آر ایس ایس کو خطرہ بتایاجارہاہے اور آر ایس ایس سے دو ررہنے اور ختم کرنے کا مطالبہ ہورہاہے تو وہیں کرناٹک کے ہبلی میں آر ایس ایس کی پریڈکے دوران مسلمانوں کے علماء نما شخصیات نے آر ایس ایس کی سواریوں پر پھول برسائے،اتناہی ان لوگوں نے آر ایس ایس کے بانیوں میں شمار ہونے والے ہیگڈےواراورگوالکر کی تصویر پر بھی پھول برساتے ہوئے آر ایس ایس کی تائیدمیں نعرے بازی کی اوریہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ آر ایس ایس کے حواری ہیں۔سوال یہ ہے کہ آخریہ کونسے مسلمان ہیں جو جبہ پائجامہ او رٹوپی پہن کر آر ایس ایس کی تائیدمیں اترے ہیں۔کہاں سے آجاتے ہیں یہ لوگ جو اپنے آپ کو مسلم پیشواء کے کہلوانا چاہتے ہیں،بھلے ہی ان کی آرتی اتارنے سے آر ایس ایس والے انہیں اپنا نہیں مانتے ،لیکن یہ اپنوں کوچھوڑکر غیروں کی جھولی میں بیٹھنے کی پوری کوشش کررہے ہیں،جو آر ایس ایس خود ان کے لیڈر ایل کے اڈوانی،مرلی منوہرجوشی جیسے لوگوں کو استعمال کرکے کہیں کا نہ چھوڑی ہو،اُس آر ایس ایس میں ان ٹوپی دھاریوں کا کیا سمان ہوگا۔
