چکمگلورو:بچوں کی خریدوفروخت کا معاملہ;ڈاکٹر سمیت6افراد پر مقدمہ درج

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں

چکمگلورو:۔ضلع کےکوپہ ٹائون پنچایت کے سرکاری اسپتال میں پچھلے دنوں بچوں کی خریدوفروخت کامعاملہ سامنے آیاتھا ،پھر ایک مرتبہ تین بچوں کی خریدوفروخت کی بات سامنے آئی ہے۔غیر قانونی طریقے سے بچوں کی خریدوفروخت کے معاملے میں کوپہ پولیس تھانے میں اسپتال کے میڈیکل آفیسر سمیت6افراد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ اسی معاملے میں اور ایک شکایت پیش کئےجانے کے باوجود معاملہ درج نہیں ہواہے۔بتایاگیاہے کہ تعلقہ کےمنجا اور کینا نائک نامی جوڑے نے بننورکے یوگیش اورکویتا کو پیدا ہونےوالی بیٹی کو گود لیاتھا،اسی طرح سے بنڈی گڑی کے ظہیر ہ اورشکوراحمدنے بھی اسپتال سے ایک بچے کوگودلیاتھا۔ اس سلسلے میں نامعلوم افرادنے پولیس کو اطلاع دی تو پولیس نے معاملے کی چھان بین شروع کی۔اسی طرح سے اُڈپی ضلع کے شائستہ اور فیاض نے بھی کوپہ اسپتال سے ہی بچے کو خریداتھا۔معاملہ کی چھان بین کرنے پر یہ معلوم ہواہے کہ منجا،شائستہ،ظہیرہ نامی خواتین کبھی حاملہ ہی نہیں ہوئی تھی،البتہ انہوں نے دوسروں کے بچوں کو خریدنے کیلئے اسپتال میں حاملہ ہونے کی رپورٹ بنوائی تھی اور زچکی کیلئے داخلہ لینے کی بات بھی اسپتال کے دستاویزات میں درج کروائے تھے،مگر یہ تینوں خواتین حاملہ ہونے کی طاقت نہیں رکھتی تھی اور انہوںنےبچوںکو خریدنے کیلئے دوسری خواتین کا استعمال کیاتھا۔شکایت پر اسپتال کے ڈاکٹر بال کرشنا،ظہیرہ ،شکور،یوگیش ،کویتا،منجا،کینا نائک پر معاملہ درج کیاگیاہے۔اس معاملے میں محکمہ تحفظ اطفال نے کارروائی کرتے ہوئےبچوں کو اپنی تحویل میں لیاہےاور تمام ملزمان پر معاملہ درج کرلیاگیاہے۔دراصل بھارت میں بچوں کی خریدوفروخت بہت بڑا جرم ہے،اگر کوئی بچوں کو گودلینا چاہتاہے تو وہ سرکاری ضوابط پر عمل کرتے ہوئے ہی گود لے سکتاہے،اس کیلئے انہیں باقاعدہ رجسٹریشن کرواناپڑتاہے اور حکومت کو اپنے تعلق سے تمام تفصیلات جمع کرنے کے بعد ہی بچوں کو گودلینے کیلئے محکمہ تحفظ اطفال اجازت دیتاہے۔مگر ان لوگوںنے پورے قوانین کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے لین دین کیاہے جس کا خمیازہ ان لوگوں کو اٹھاناپڑرہاہے۔