ہندوستان میں ہر 10000 میں سے چھ بچے موتیابند کا شکار

سلائیڈر نیشنل نیوز
بنگلورو:۔کیا آپ جانتے ہیں کہ موتیا بندبچوں میں کیوں عام ہے؟ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں ہر 10000 میں سے چھ بچے ایسی حالت کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں اور مجموعی طور پر یہ بچپن کے اندھے پن کا شکار ہوتے ہیں، جو کہ 10 فیصد ہے۔ ڈاکٹروں نے نشاندہی کی کہ پیڈیاٹرک موتیابند کے کیس درحقیقت متعدد وجوہات کی بنا پر بڑھ رہے ہیں۔ اسے عام طور پر عام موتیہ بھی کہا جاتا ہے۔موتیابند ایک طبی حالت ہے جو ایک جسمانی تنزلی یا تبدیلی کی وجہ سے ہوتی ہے جو قدرتی طور پر بینائی کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب آنکھ کے اندر عام طور پر کرسٹل لائن لینس مبہم یا ابر آلود ہو جاتا ہے۔ تاہم ماہرین امراض چشم کے مطابق بچوں میں اس کے ہونے کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں۔آنکھوں کے ماہر ڈاکٹرس نے اس تعلق سے بتایاکہ نوزائیدہ بچوں میں پیدائشی موتیابند دیکھا جاتا ہے۔ یہ یکطرفہ یا دو طرفہ ہو سکتا ہے اور عام طور پر زچگی کے انفیکشن کی تاریخ یا ڈاؤن سنڈروم جیسے دیگر بے ضابطگیوں سے منسلک ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں یک کیس کم ہیں کیونکہ اس میں قبل از پیدائش کی اچھی دیکھ بھال اور زچگی کے انفیکشن میں کمی آئی ہے۔ شہری آبادی میں دیگر عوامل جیسے اسٹیرایڈ کی زیادتی، جینیاتی خرابی، میٹابولک عوارض اور قبل از وقت پیدائش کی وجہ سے واقعات الٹا اور مسلسل بڑھ رہے ہیں۔بچوں میں موتیا ہندوستان میں بچپن کے اندھے پن کی ایک بڑی وجہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ بچپن میں اندھے پن کے تقریباً 15 فیصد کیسز موروثی ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں تقریباً 3 تا 3.5 لاکھ نابینا بچے ہیں جن میں سے 15 فیصد کا اندازہ موتیا کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ مزید ڈاکٹر س کاکہناہے کہ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 2 لاکھ بچے موتیابند کی وجہ سے نابینا ہیں اور ہر سال 20000 تا 40000 بچے اس حالت کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ماہرین امراض چشم کا کہنا ہے کہ بچوں میں موتیا بند کے زیادہ تر کیسز بچوں کی آنکھوں کی معمول کی جانچ کے دوران سامنے آتے ہیں۔ جب والدین کو ان کی آنکھوں میں سفید چمک نظر آتی ہے، تو اس کا موروثی اثر بچوں میں بھی پایا جاتا ہے کیونکہ بچے خود اپنی بینائی میں کمی کو نہیں سمجھ سکتے۔تقریباً 5 سال پہلے ایک شہری علاقے میں مشق کے دوران میں نے ایک سال کے دوران تقریباً 6 تا 7 کیسز دیکھے تھے۔ اب مجھے ایک سال میں تقریباً 10 تا 15 کیسز کی تشخیص کرنے پڑرہی ہیں۔ اگرچہ تعداد ابھی تشویشناک نہیں ہے، تاہم بچوں کے موتیا کے مرض کو فوری طور پر حل کرنا ہوگا کیونکہ اس کا اثر بچے کے مستقبل پر پڑ سکتا ہے۔