5ماہ ، 5 شوٹ آئوٹ ۔ شیموگہ میں کیا ہر بار ہورہاہے پولیس پر اٹیک ؟

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
معاملات الگ الگ ، کہانی ایک ، برس رہی گولیوں کا مسلمان ہی ہورہے ہیں شکار ، خاموشی کیوں ؟
شیموگہ :۔ شیموگہ شہر میں پچھلے پانچ مہینوں کے عرصے میں الگ الگ کرائم کے معاملات میں گرفتار ہونے والے پانچ نوجوانوں پر پولیس نے گولیاں ماری ہیں اور ان تمام کریمنلس کے تعلق سے پولیس نے ایک ہی بیان جاری کیاہے جس میں کہا گیا ہے کہ گرفتار کرنے پہنچی پولیس پر ملزم نے حملہ کیا تھا اس وجہ سے پولیس نے اپنے بچائو میں ملزم پر گولی داغی ہے ۔ پچھلے پانچ مہینوں میں شیموگہ پولیس نے کریمنلز پر لگام کسنے کے نام پر جو فائرنگ کی ہے اس میں پانچوں کے پانچ ملزمان مسلمان ہی ہیں اور ان تمام ملزمان پر یقیناََ کئی مقدمے ہیں لیکن ان پر عائد شدہ مقدمے اتنے بھی سنگین نہیں ہیں کہ ان پر گولیاں برسائی جائیں ۔ سال 2022 میں شیموگہ میں جملہ پانچ نوجوانوں پر پولیس نے فائرنگ کی ہے جس میں سب سے پہلا نام ارشد خان کا آتاہے ، ارشد خان پر ڈکیتی کا معاملہ درج تھا ، جب اس پر پولیس نے گولی چلائی تو یہ کہا گیا کہ محاذر کرتے وقت ارشد نے پولیس پر حملہ کیا تھا جس سے بچنے کے لئے پولیس نے جواب میں اس کے پیر پر گولی ماری تھی ۔ 3 جون کو یہ واردات انجام پائی گئی ہے ۔ اس کے بعد 21 جون کو شاہد قریشی پر حملہ فائرنگ ہوئی ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شاہد قریشی کو کسی پرانے معاملے میں پوچھ تاچھ کے لئے لاتے وقت اس نے پولیس پر حملہ کرتے وقت فرار ہوگیا تھا ، دوبارہ اس کی گرفتاری کے لئے پہنچنے والی پولیس ٹیم پر اس نے دھاری دھار ہتھیار سے حملہ کرنے کی کوشش کی تھی ، اس حملے سے بچنے کے لئے پولیس نے شاہد قریشی پر گولی چلائی ۔ یہ واردات 21 جون کو پیش آیا یعنی کہ ایک مہینے میں دو مرتبہ پولیس کی پستول سے گولیاں نکلی تھی ۔ تیسری واردات میں پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں پریم سنگھ نامی شخص پر حملہ کرنے والے ملزم کو گرفتار کرنے میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے ، پولیس نے دعویٰ کیا تھاکہ پریم سنگھ نامی شخص پر حملہ کرنے والے محمد ذبیع اللہ کو گرفتار کرنے پہنچی پولیس پرمحمد ذبیع اللہ نے جان لیوا حملہ کیا تھا جس سے بچنے کے لئے پولیس نے اسکے پیر پر گولی ماری اور یہ گولی کسی سنسان مقام پر ماری گئی تھی جبکہ محمد ذبیع اللہ کے اہل خانہ نے پولیس کے اس دعوے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے اس معاملے کے خلاف قانونی لڑائی لڑنا شروع کیا ہے ۔ یہ واردات 16 اگست کو انجام دی گئی تھی جب شیموگہ میں ساورکر کے معاملے کو لے کر تنازعہ پیدا ہوا تھا۔ قریب دو مہینوں کے وقفے کے بعد پولیس نے26 اکتوبر کو وینکٹیش نامی شخص کے قتل کے معاملے میں ذبیع نامی ملزم پر گولی چلائی ، ذبیع پر الزم ہے کہ جب وینکٹیش نامی شخص کے ساتھ لوٹ مار کے بعد قتل کی واردات انجام دی گئی تھی تو پولیس نے تین ملزمان کو گرفتار کرنے کے مقصد سے ٹیم لے کر پہنچی ۔ اس دوران ذبیع نے پولیس پر چاقو سے حملہ کرنے کی کوشش کی تھی جس کی وجہ سے پولیس کو مجبوراََ اپنی جان بچانے کے لئے ذبیع پر گولی چلانی پڑی ۔  ان چار واقعات کے بعد پولیس نے 5 نومبر کو اسلم نامی ملزم پر گولی چلائی ، اس پر الزام ہے کہ اس نے بی ہیچ روڈ پر ایک شخص کے ساتھ رابری کرنے کی کوشش کرتے ہوئے جان لیوا حملہ کیا تھا ، اس حملے کو انجام دینے کے بعد اسلم فرار ہوگیا تھا ، اسلم کے دوست کی اطلاع کی بنیادپر جب پولیس اسے پکڑنے سنسنان مقام میں گئی تو اسلم نے ایک پولیس اہلکار پر چاقو سے حملہ کیا جس سے بچنے کے لئے پولیس نے اس کے پیر پر گولی چلائی ۔ تمام واقعات میں ملزمان الگ الگ ہیں ، کیس الگ الگ ہیں ، جگہ الگ ہے لیکن پولیس کا بیان ایک ہی ہے ۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب پولیس ٹیم ملزمان کو پکڑنے کے لئے پہنچ رہی ہے اور دفاع میں مہارت رکھتی ہے ،طاقتور اور چالاک ملزمان کو حراست میں لینے کی استطاعت رکھتی ہے تو محض چاقو جیسے ہتھیار سے بچنے کے لئے کیسے گولی چلائی جاسکتی ہے ؟۔ مسلسل پانچ مہینوں میں پانچ ملزمان پر گولی چلانا وہ بھی ایک ہی طبقے سے تعلق رکھنے والے تو عوام میں کئی طرح کے سوالات اٹھ رہے ہیں ۔ عوام کا یہ سوال ہے کہ کہیں پولیس فرقہ پرستوں کے اشاروں پر تو کام نہیں کررہی ہے ؟۔ رکن اسمبلی کے یس ایشورپا کی جانب سے مسلمانوں پر غنڈہ ہونے کے الزام کی تصدیق کرنے کے لئے تو کہیں یہ سب نہیں کیا جارہاہے ؟۔ ہوسکتاہے کہ ملزمان کا کرائم ریکارڈ بہت بڑا ہے لیکن اسے ثابت ہونے سے پہلے ہی پولیس جس طرح سے انہیں سزاء دینے یا سبق سکھانے کیلئے آمادہ ہے کیا وہ قانون کے دائرے میں ہے ؟۔ پولیس اگر فائرنگ کررہی ہے تو کیا وہ فائرنگ کیلئےطئے شدہ ضوابط پر عمل پیرا ہے ؟۔
خاموش کیوں ہیں شہر کے لیڈران اور تنظیمیں ؟
شہر میں پچھلے پانچ ماہ کے درمیان پانچ ملزمان پر ہونے والے شوٹ آؤٹ کے تعلق سے عام لوگوں میں کئی سوالات اٹھ رہے ہیں ، مخصوص مذہب سے تعلق رکھنے والے ملزمان پر ہی برس رہی گولیوں کے تعلق سے جہاں عام لوگ سوالات کررہے ہیں اور مسلمانوں میں ایک طرح سے خوف دکھائی دے رہاہے اس پر عمائدین ، رہبران اور تنظیموں کی جانب سے سخت رویہ اختیار نہیں کیا جارہاہے ، ممکن ہے کل کہ دن پولیس ہر کسی پر گولیاں برسا سکتی ہے اور یہ جواب دے سکتی ہے کہ پولیس نے اپنے بچائو میں گولی ماری ہے ، پولیس اگر کسی غیر قانونی سرگرمی کو انجام دینے والے پر قانونی شکنجہ کستی ہے تو اسکی تائید کی جاسکتی ہے لیکن گولی مارنے کا جو رواج شروع ہوا ہےوہ نہایت خطرناک ہے جس کی زد میں کوئی بھی آسکتا ہے ۔ پولیس سے دوستی کرنے اور خوشآمد کرنے کے نام پر آج مسلمانوں کی آواز بننے والاکوئی نہیں ہے ۔ ہر سماجی اصلاح کیلئے پولیس کی تائید کی جاسکتی ہے لیکن سماج میں ڈر و خوف پیدا کرنے کیلئے جن بندوقوں کا استعمال ہور ہا ہے وہ سنگین مسئلہ ہے ، اس کیلئے وکلاء ، عمائدین اور دانشوروں کو آگے آکر سوال کرنے کی ضرورت ہے ورنہ آنے والے دنوں میں ہر مسلم نوجوان کو پریشان کیا جاسکتاہے ۔
شوٹ آئوٹ کے پانچ میں سے ایک ہی معاملے پر ہورہی ہے کارروائی
16 اگست کو ساورکر معاملے کے دوران پریم سنگھ نامی نوجوان پر حملہ کرنے والے محمد ذبیع اللہ کی گرفتاری کے دوران پولیس کی جانب سے چلائی گئی پولیس فائرنگ کے تعلق سے کرناٹکا ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی تھی جس کے بعد اس معاملے کی چھان بین ہیومن رائٹس کمیشن کے ذریعے ہورہی ہے ۔ اس تعلق سے کرناٹکا پولیس کو نوٹس بھی جاری کی گئی ہے جس کی سماعت جلد شروع ہونے والی ہے ۔ ذبیع اللہ کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ پولیس نے انہیں گھر سے حراست میں لیا تھا اسکے بعد انہیں سنسان جگہ پر لے جایا گیا اور ان پر گولی داغی گئی تھی ، حالانکہ پولیس اس بات سے انکار کررہی ہے کہ اس نے ذبیع اللہ کی جانب سے حملہ کیے جانے کے بعد ہی حملہ کیا تھا لیکن اس کی حقیقت تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئیگی ۔
مائناریٹی کمیشن کی توجہ ضروری:
کرناٹکا مائناریٹی کمیشن کےپاس اس بات کے اختیارات ہیں کہ وہ ایسے معاملات پر براہ راست مداخلت کرسکتی ہے،کمیشن کے چیرمین عبدالعظیم کو چاہیے کہ وہ اس جانب بھی توجہ دیتے ہوئے پولیس سے جواب طلب کریں ، کارروائی ہوتی ہےیا نہیں یہ الگ بات ہے،لیکن کم ازکم یہ بات سامنے آئیگی کہ کوئی تو پوچھنے والا ہے۔