بھکاری کیوں بنا!!!

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔9986437327
انڈین ایکسپریس نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جو بھارت کےمحکمہ معاشیات کی جانب سے کئے گئےسروے کی تفصیل ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کا ہر چوتھا مسلمان بھکاری ہےاور وہ بدحالی کا شکار ہے ۔ بھارت کے مسلمانوں کی بدحالی کے تعلق سے یہ کوئی پہلے سروے رپورٹ نہیںہے۔ اس سے پہلے بھی بھارتی مسلمانوں کی تعلیمی، اقتصادی اورسماجی حالات کے تعلق سے جسٹس رنگناتھ مشراکمیشن اورجسٹس سچر کمیٹی کی رپورٹیں منظرعام پر آچکی ہیں۔ا سکے علاوہ وقتاًفوقتاً الگ الگ ریاستوں میں مسلمانوں کے سماجی ، تہذیبی، اقتصادی، معاشی، حالات کے تعلق سے سروے رپورٹیں تیار ہوتی ہی رہی ہیں۔ مگر ان حالات کو بہتر بنانے کیلئے سنجیدگی کے ساتھ نہ تو حکومتوں کی جانب سے کام ہوا ہے نہ ہی خود مسلمانوں نے سنجیدگی کے ساتھ منصوبہ بندی کی ہے۔ مسلم تنظیموں واداروں نے اسکی ذمہ داری حکومتوں پر عائد کی ہے۔ تو حکومتوں نے رولنگ واپوزیشن کے درمیان مسلمانوں کو پیسا ہےاور آزادی کے 75 سال بعد بھی مسلمانوں کی ترقی ممکن نہیں ہوپائی ہے۔ اصل میں مسلمانوں کی باز آبادکاری کیلئے خود مسلمان ہی منصوبہ تیار کرسکتے ہیں اوراسے عملی جامعہ پہنا کر مسلمانوں کی باز آبادکاری کیلئے کام کرسکتے ہیں۔ سال 2016 میں اسوسیشن آف مسلم پروفیشنلس کی جانب بھی ایک سروے کروایا گیا تھا ، جس میں یہ بات واضح ہوئی تھی کہ بھارت کے مسلمان ہر سال 20 ہزار کروڑ روپئے کا زکوٰۃ نکالتے ہیں اوریہ زکوٰۃ غیر منظم طریقے سےتقسیم ہورہا ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کو پوری طرح سے فائد ہ نہیں مل رہا ہے۔ ایک طرف حکومتوں کا دعویٰ ہے کہ وہ مسلمانوں کی ترقی کیلئے کام کررہے ہیں تو دوسری جانب مسلمانوں کا بھی ایک گروہ ضرورتمند مسلمانوں کی مدد اوربازآبادکاری کیلئے کام کرنے کا دعویٰ کررہا ہے۔ اصل میں یہاں مسئلہ یہ ہے کہ حکومت اورمسلم تنظیموں، اداروں کی جانب سے جو کام ہورہا ہے اس میں کوآرڈینیشن نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک غریب گھر کے دو بچوں کو تعلیم کیلئے حکومت 5 ہزار روپئے کی اسکالرشپ دیتی ہے تو یہ اسکالرشپ بچوں کے فیس کیلئے تو مل جاتے ہیں، لیکن اسکے بقیہ اخراجات کیلئے سہولت نہ ہونے کی وجہ سے بچے اسکالرشپ لیکر بھی تعلیم کے سلسلے کو منقطع کرلیتے ہیں۔ اگر اسی گھر کے تعلق سے مسلم تنظیمیں توجہ دے کر انکے لئے دیگر وسائل تیارکرتے ہیں تو انکا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ اسکے بعد روزگار کی بات کی جائے تو حکومت کاروبار کیلئے مائیکرو لونس مہیا کرتی ہے۔ حالانکہ اس میں سے حقیقت میں کاروبار کرنے والوں کو قرضہ نہیں ملتا، اورملتا بھی ہے تو اس سطح پر نہیں ملتا جس سے وہ روزی روٹی کما سکے۔ ایک دکاندار کو 20ہزار روپئے کا قرضہ دیا جاتا ہے تو اس سے وہ کتنی بڑی سرمایہ کاری کرسکتا ہے اندازہ لگائیں۔ اس صورت میں اگر ملی وسماجی تنظیمیں اس تاجر کیلئے بیک اپ مہیا کریں تو وہ ایک اچھا کاروبار کرسکتاہے۔ ہم نے زکوٰۃ تو اب بھی روایت کے مطابق ہی تقسیم کرنے کا عہد کررکھا ہے، امسال رمضان میں کچھ ایسے مدرسے بھی رہے ہیں جو کوویڈ کی وجہ سے ایک سال سے بند ہیں اوراس سال بھی بندرہنے کے پورے امکانات ہیں اورانہوں نے حوالہ دیا کہ ان کے مدرسوں میں تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ان سرگرمیوں کوانجام دینے کیلئے زکوٰۃ ، صدقہ ، خیرات درکار ہے۔ سوال یہ ہے کوویڈ کے ان ایام میں کونسے مدرسے کھل رہے ہیں۔کیا واقعی میںانہوں نے اساتذہ وعلماء کوتنخواہ دی ہے۔ ایسے ہی حالات کی وجہ سے بھارت میں مسلمانوں کی بدحالی ہورہی ہے۔ کہاوت ہے کہ "خدا دیتا ہے لیکن پجاری نہیں "ہمارے پاس زکوٰۃ کا جو نظام ہے اس نظام کو بہتر طریقے سے رائج کیا جائے تو یقیناً بہت بڑا فائدہ ہوسکتا ہے۔ مسلمان اگر زکوٰۃکو منظم طریقے سے خرچ کرنے کیلئے کوئی منصوبہ بناتے ہیں تو اسکے لئے 100فیصد سروس سیکٹر بنانے کے بجائے 100 فیصد کمرشیل سیکٹر بنایا جائے، سال 2سال تک کے لئے اسکی آمدنی کو منجمد کیا جائے پھر اسکے بعد منافع کو سروس میں لگایا جائے تو اسکے بہتر نتائج آسکتے ہیں۔ ہمارے پاس کیا ہے ! سمجھ لیجئے کسی کےیہاں 50 ہزارروپئے کا زکوٰۃنکل رہا ہوتو اس 50 ہزار روپئے کے چھتڑے چھتڑے اڑا دیتے ہیں۔ اگر اسی رقم کو ترتیب کے ساتھ کچھ لوگوں کا گروہ منظم طریقے سے خرچ کرنے کیلئے آگے آتا ہے تو اس سے مسائل کا مستقل حل نکل آتا ہے۔ ہمیں عارضی خوشی کی جانب نہیں مستقل سکون کے تعلق سے کام کرناہوگا۔ ضروری نہیں کہ مسلمان یہ سمجھ لیں کہ اب تو رمضان چلاگیا ہے زکوٰۃکا موسم بھی ختم ہوچکا ہے، اگلے سال سوچیں گے۔ اسلام میں بہت سارے سہولیات ہیںاورسب سے اہم بات تو یہ ہے کہ رمضان زکوٰۃکا موسم نہیں ہوتا ہم نے اسے زکوٰۃ کا موسم بنارکھا ہے، زکوٰۃ ادا کرنے کیلئے اہم شرط یہ ہے کہ مال کا ایک سال ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح سے زکوٰۃکو اڈوانس میں بھی ادا کیاجاسکتا ہے۔ زکوٰۃصرف ثواب کیلئے پیش کردہ فرض نہیں ہے بلکہ کسی کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے طئے شدہ فرض ہے۔اگر ان چیزوں پر توجہ دیںگے تو یقیناً بہت بڑا فائدہ ہوسکتا ہے۔ لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ زکوٰۃ صرف رمضان میں ہی ادا کرنا ہے۔ بھلا بتائیے کہ کتنے لوگ رمضان میں سونا خریدتے ہیں جو رمضان کے حساب سےزکوٰۃ ادا کرتے ہیں،کچھ لوگوں کا اعتراض ہے یہ جو سروے رپورٹ ہے وہ غلط ہے، مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلئے اورمسلمانوں کی عزت کو اُچھالنے کیلئے سروے کیا گیا ہے۔ بھلے ہی یہ سوچ کوئی حقیقت نہیں رکھتی لیکن ہمیں اس سوچ سے بالاتر ہوکر یہ بھی سوچنا چاہئے کہ کیا واقعی میں پورے مسلمان مالدار یا غیرغریب نہیں ہیں۔