اردو مسلمانوں کی نہیں بلکہ ہندوستانی زبان ہے : ساجد حمید

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ :۔ شہر کے وادی ہدیٰ میں موجود ویزڈم انگلش اسکول میں آج یوم اردو ، یوم ٹیپو اور یوم تعلیم کامشترکہ پروگرام رکھا گیا تھا جس میں مہمان خصوصی کے طورپر معروف شاعر ساجد حمید نے شرکت کرتے ہوئے کہا کہ زبان صرف زبان نہیں ہوتی بلکہ تہذیب ہوتی ہےاور اس تہذیب کی اعلیٰ مثال اردو زبان ہے جو خالص ہندوستانی زبان ہے ۔ اردو سیکھنا ہے تو عشق کرنا ہے اور عشق کرنا ہوتو اردو سیکھنی ہوگی، عشق صرف لڑکا لڑکی کی محبت نہیں ہے بلکہ کتابوں سے عشق کیا جاتاہے، اللہ سے عشق کیا جاتا ہے۔ اردو  مسلمانوں کی زبان نہیں ہے بلکہ یہ ہندوستانیوں کی زبان ہے، اردو زبان کے کئی ادباء و شعراء غیر مسلم ہیں ۔ مسلمانوں کا دینی اثاثہ اردو میں ہے جسے سمجھنے کے لئے اردو زبان کو سیکھناضروری ہے۔ مزید انہوںنے کہا کہ علامہ اقبال کے تعلق سے محدود الفاظ میں سمجھانا اور سمجھنا مشکل ہے ،وہ ہر عمر کے لوگوں کے شاعر تھے، بچوں کے لئے جو نظمیں لکھی ہیں وہ بچوں کے اخلاقیات کو اجاگر کرتے ہیں ۔ترانہ ہند ی کو پیش کرتے ہوئے انہوںنے بھارت کی شان کو بڑھایا ہے ، انہوںنے طلباء سے گزارش کی کہ طلباء اپنی مادری زبان سے محبت کریں اور مادری زبان کا استعمال کریں ۔ اس موقع پر روزنامہ آج کاانقلاب کے ایڈیٹر مدثر احمد شیموگہ نے ٹیپو سلطان کے تعلق سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش منانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم باگھ کی شالیں اوڑھ لیں یا پھر ٹوپیا ں پہن لیں بلکہ ٹیپو سلطان کے پیغام کو سمجھا جائے ، ٹیپو سلطان نے ہمیں عدل و انصاف ، شجاعت اور بہادری اور ظلم کے خلاف لڑنے کا پیغام دیاہے اور اس پیغام کو ہمیں اپنی زندگیوں میں عملی طورپر لانے کی ضرورت ہے ۔ ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش نہ تو دس نومبر کو ہے نہ ہی 20 نومبر کو بلکہ انکی حقیقی تاریخ پیدائش 1 دسمبر کو ہے جو تاریخ سے ثابت ہے ۔ اس موقع پر اسکول کے میر معلم محمد خالد اور  منتظم اسرار احمد  نے اردو زبان کی اہمیت اور ضرورت پر خطاب کیا ۔طالب العلم عطاء اللہ بیگ سورۃ رحمٰن کی قرآت پیش کی اور اسکا ترجمہ طالبہ حفصہ نے پیش کیا ۔ نعت پاک محمد انور نے پیش کی، استقبالیہ کلمات اسکول کی معاون معلمہ رابعہ بصری نے پیش کئے۔ترانہ آمنا کونین اور ساتھیوں نے پیش کئے۔ اردو زبان پر تقریر آٹھویں جماعت کی طالبہ مدیحہ طوبیٰ نے کی۔ جلسے کی نظامت فاطمہ عبدالغفار نے انجام دی جبکہ معلمہ ثمینہ نے تمام کاشکریہ اداکیا۔