ثنا شاہین کالج ہبلی میں ’’عصری تعلیم کے میدان میں مولانا ابوالکلام آزاد کی خدمات ‘‘ پر سمینار
ہبلی:۔عصری تعلیم کے میدان میں مولانا ابواکلام آزاد کی خدمات پر اہتمام کیا گیا جس میں ٹیپو شہید انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (پولی ٹیکنک) ہبلی کے پرنسپل ایم ایس مُّلابحیثیت مہمان خصوصی شریک رہے۔ اس موقع پر ایم ایس مُّلانے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد ان نایاب ہستیوں میں سے ہیں جن کے ذریعے 20ویں صدی کی امتیازات شخصیات کی پہچان ہوتی ہے اور21ویں صدی کے امکانات کا تعین کیا جا سکتا ہے، وہ لبرل، جدید اور عالمگیر تعلیم کے ذریعے ایک تعلیم یافتہ معاشرے کے قیام چاہتے تھے۔ جس میں جس میں فنون کی انسانیت اور علوم کی عقلیت پسندی شامل تھی۔مولانا آزاد نے سماجی – مذہبی اور ثقافتی فرق کو پورا کرنے اور ہندوستانی ثقافت اور ورثے کو مالا مال کرنے کیلئے انہوں نے قومی اہمیت کے کئی ادارے جیسے للت کلا اکیڈمی، سنگیت ناٹک اکیڈمی اور ساہتیہ اکیڈمی قائم کیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی پوری زندگی ہندوستان کے اتحاد اور اس کی جامع ثقافت اور ہندو مسلم اتحاد کے لیے اپنے خدمات انجام دیتے رہے۔ انہوں نے انگریزوں سے ہمارے جدید ہندوستانی نظام میں تعلیمی نظام کو منتقل کرنے میں مولانا ابوالکلام آزاد کی جدوجہد کے بارے میں بھی کافی تفصیلی روشنی ڈالی۔ مہمان خصوصی نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے ابتدائی مرحلے میں ہندوستان کے تعلیمی نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ اورفرمایاکہ تعلیم بچے کا پیدائشی حق ہے۔ اور دولت ملک کے بینک میں نہیں بلکہ پرائمری اسکول میں رہتی ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد تعلیمی نظام کی تین زبانوں کے فارمولے کی وکالت کی اور پورے ملک میں تعلیم کے 10+2+3 کے مشترکہ ڈھانچے کی حمایت کی ۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے اعلیٰ تکنیکی تعلیم کے تصور کو سامنے رکھتے ہوئے 1951 میں آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن کے ڈھانچے اور سرگرمیوں کو دوبارہ منظم کیا۔ انہوں نے ثقافتی تعلقات کیلئے انڈین کونسل کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس بنگلور، انڈین کونسل فار ایگریکلچر ریسرچ سینٹر اور دہلی یونیورسٹی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا، انہوں نے 1951 میں کھرگ پور میں ہندوستان کے پہلے آئی آئی ٹی سینٹر کا افتتاح کیا اور 1953ء میں یو جی سی کا قیام عمل میں لایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی یوم تعلیم کا مقصد خواندگی کی روشنی پھیلانا ہے، اور قوم اسی وقت آگے بڑھتی ہے جب اس کے تمام شہری خواندہ ہوں۔ سمینار کی صدارت اشرف علی، منیجنگ ٹرسٹی ثناء شاہین گروپ آف انسٹیٹیوشین ہبلی نے انجام دی ۔انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ مولانا ابوالکلام آزاد انمول ہیرے تھے۔ اور انہوںنے تعلیمی میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ لیکن بدقسمتی سے آج کی نسل ان کے اور ان کے کارناموں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتی۔چنانچہ مولانا آزاد کی زندگی اور کام کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے اور ہر ایک کو ہندوستان کی آزادی کیلئےان کی جدوجہد کو یاد رکھنا چاہیے۔ آزاد ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ صحافی، مصنف، آزاد پسند اور وژنری تھے۔ مولانا آزاد نے آزاد ہندوستان کے بعد تعلیم کی جڑوں کو مضبوط کیا اور ایک مضبوط کیا ۔ اس موقع پر ایگزیکٹو ٹرسٹی ممبران ایوب سونور، عبدالرحمان ملا، طاق مجاہد ،سرفراز عطار، پرنسپل یوسف ، پرنسپل ڈاکٹر آر پتگی، ڈاکٹر عارفہ مکاندر،اڈمنسٹریٹر انجم خان اور دیگر عملہ اور طلباء موجود تھے۔ سمینار کا آغاز تلاوت قرآنِ مجید سے ہوا اور بی ایڈ کی طالبہ عارفہ درورکی نظامت اور امین کمانگر کے تشکر انہ کلمات سے اختتام ہوا۔
