بنگلورو:۔مویشیوں میں تیزی سے پھیلنے والی لمپی اسکین ڈیسیز( Lumpy Skin Disease )ریاستی حکومت کیلئے ایک سنگین چیلنج بن گیا ہے کیونکہ گزشتہ چھ ماہ میں 1.44 لاکھ کیسز درج کئے گئے ہیں، جن میں سے صرف ایک ماہ کے عرصے میں ایک لاکھ کیس رپورٹ ہوئے ہیں،جس میں اب تک 11000 سے زیادہ مویشی ہلاک ہو چکے ہیں۔مویشیوں میں اس بیماری کی وجہ سےکسان پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ دودھ کی پیداوار میں زبردست کمی آئی ہے اور کھیتوں میں بیلوں سے کام لینا مشکل ہو رہا ہے۔ محکمہ آر ڈی پی آر نے تمام گرام پنچایت حدود اور آس پاس کے ان علاقوں میں فوگنگ کا حکم دیا ہے جہاں جلد کی گانٹھ کی بیماری پائی جاتی ہے۔ ریاست کے کچھ علاقوں میں دودھ کی پیداوار میں 10 سے 20 فیصد کمی آئی ہے۔ ریاست کی اوسط دودھ کی پیداوار 94 لاکھ لیٹر یومیہ سے کم ہو کر 90 لاکھ لیٹر رہ گئی ہے۔ریاست میں اپریل اور اکتوبر کے درمیان 2070 مویشیوں کی موت ریکارڈ کی گئی، جس سے یہ تعداد 11031 تک پہنچ گئی، جو کہ ایک ماہ کے عرصے میں اموات کی تعداد میں 9000 کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔محکمہ حیوانات کے حکام کے اشتراک کردہ اعداد و شمار کے مطابق ا ب تک مویشیوں میں پائے جانے والے 1.44 لاکھ کیسوں میں سے 61400 جانور زیر علاج ہیں، جس کا مطلب یہ بھی ہے کہ صحت یاب ہونے کی شرح صرف 60 فیصد ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ چیف منسٹر بسواراج بومئی نے ایک میٹنگ میں کہا تھا کہ حکومت گائے کی موت پر 20 ہزار روپے اور بیلوں کی موت پر 30 ہزار روپے معاوضہ دے رہی ہےجبکہ حکومت کی جانب سے مجموعی طور پر 2 کروڑ روپے پہلے ہی معاوضے کے طور پر جاری کیے جا چکے ہیں، اضافی 5 کروڑ روپے بیمار مویشیوں کے علاج کے لیے اور 8 کروڑ روپے ان کی ویکسینیشن کے لیے جاری کیے جائینگے۔کرناٹک ویٹرنری، اینیمل اینڈ فشریز سائنسز یونیورسٹی کے پروفیسر ویرا گوڈا نے کہا کہ بیماری کا پھیلاؤ عروج پر پہنچ چکا ہے اور اب مزید ویکسینیشن کے ذریعے اسے قابو میں لایا جا رہا ہے۔ ”بنگلورو کے انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ اینڈ ویٹرنری بائیولوجیکل میںیہ ویکسین بنائی جا رہی ہیں، اس کے علاوہ دو اور نجی ایجنسیاں اس ویکسین بنا رہی ہیں۔ ریاست کی 1.2 کروڑ مویشیوں کی آبادی کو دیکھتے ہوئے متاثرہ مویشیوں کی تعداد نسبتاً کم ہے تاہم حکام کوشش کر رہے ہیں کہ اسے قابو میں لایا جاسکے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بیماری انسانوں میں نہیں پھیلتی۔
