فرقہ پرستوں کودستورِ ہند میں دئے حقوق کے صحیح استعمال سےمنہ توڑ جواب دیا جاسکتاہے : کے عبد الجبار

اسٹیٹ نیوز
داونگیرے:۔پیروں تلے کھسکتی زمین سے خوف زدہ فرقہ پرست ملک میں مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح مسلمانوں کو الجھا کر اپنا اُلو سیدھا کرسکیں ،پچھلے نو سالوں سے مسلسل جھوٹ پر جھوٹ کہتے ہوئے ملک کی معیشت کمزور کرتے ہوئے اپنے ہم نواؤں کو ملک میں لوٹ گھسوٹ  اور بینکوں سے ہزاروں کروڑ کی کے قرضے لے کرملک سے فرار ہونے والوں کی مدد اور اُن کے قرضوں کی معافی ،تعلیم یافتہ قابل نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں ناکام،اشیاء ضروری کی آسمان چھوتی قیمتوں، کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے میں جھوٹ ثابت، پیٹرول ڈیزل اور پکوان گیس  کی قیمتوں سے آج ملک کا ہر شہری پریشانی کا شکار ہے،ہندومسلم کے نام پر لوگوں کے جذبات سے کھلواڈ کرتے ہوئے اقتدار تک پہنچنے کے بعد جو حکومت  صرف اپنے سوٹ بوٹ پر توجہ دیتی آئی ہے  اب ملک کے شہریوں کی آنکھ کھلنے لگی تو ایک نیا شوشہ چھوڑ کر پھر سے اقتدار پر بحالی کی کوشش ہر ذی شعور سمجھنے لگا ہے،ملک میں مسلمانوں نے سینکڑوں سال حکومت کی جو ووٹ سے نہیں بہک اپنے اخلاق و بہتر انتظامیہ فراہم کرتے ہوئے لوگوں کے دل جیت کراُ س دور میں اپنے آپ کو کسی سےبرتر  ثابت کرنے کی کبھی کوشش نا کی وہ آج کیونکر کرے،مسلمان اس ملک میں کبھی اپنے آپ کو نا کسی پر برتری ثابت کرنے کی کوشش کی  ہے اور نا ہی مسلمان کسی بھی معاملہ میں کسی سےکمتر ہے۔اس بات کااظہار ایم ایل سی کے عبدالجبار نے کیاہے۔انہوں نے اپنے اخباری بیان میں کہاہے کہ آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کے بیان پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کوئی بھی اپنے آپ کو بالاتر مانتاہے ہے تو قانون کی نظر میں وہ دستور ہند سے انحراف کے دائرے میں شمار کیا جائے گا،مسلمانوں اور دیگرپچھڑے کمزور سے  طبقات جو سیکڑوں سالوں سے ایسی سوچ سے پریشانی میں مبتلاء رہے اب اُنہیں صرف ایک کام کرنا ہے کہ دستور ہند میں دئے گئے حقوق کا صحیح استعمال کرتے ہوئے ا ن کا منہ توڑ جواب دینا ہے،کچھ دن پہلےیہی موہن بھاگوت نےایک بیان دیا اور کہا تھا کہ مسلمانوں کو اس ملک میں ڈرنے کی ضروت نہیں اور اب  اپنی زبان کو طول دیتے ہوئے یہ کہا کہ ہندوستان میں رہنا ہے تو دُم دبا کر رہے ،ہندوستان میں مسلمان نا آج سے پہلے کبھی ڈرا ہے اور نا آیندہ کبھی ڈرے گا مسلمان ملک میں صرف دستور ہند کا پابند ہوگا ناکہ کسی فرقہ پرست تنظیم  سےیا تنظیم جُڑے فرد کا ،کوئی بھی ملک  میں کسی سے نا بالاتر ہے نا کمتر یہ موہن بھاگوت کو اچھی طرح ذہین نشین کرلینا چاہیئے ،موہن بھاگوت کو چاہیئے کہ سب سےپہلے  ملک کے سامنے اپنی تنظیم اور تنظیم سے متعلق  اپنی کارگردگی ومالی حساب و کتاب پیش کرے تب پتہ چلے کون کتنے پانی میں ہے،جس کی شہہ پر حرکت کرنے والی حکومت جس نے ملک کی بینکوں سے قرض لے کر  فرار ہونے والوں کی مدد کی ہو اور اُن کے قرضوں کو معاف بھی کیاآزادی کے موقع پر انگریزوں کا ساتھ دیے کر انگریزون کے اقتدار کو توسیع دینے  کام کرنے والے افراد ملک میں مسلمانوں کوکیا سیکھائیں گےاور نا مسلمانوں کو اِن سے کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے ،بہتر یہی ہے اب وقت ختم ہوچکا ہے بستر لپیٹ کر نکل پڑو ملک کی عوام کے سامنے فرقہ پرستوں کی ساری پول کھل چکی عوام اب جھوٹ سننے تیار نہیں ،ریاست کرناٹک میں سدارامیا کی قیادت میں پچھلی کانگریس حکومت نے عوام سے کئے تمام وعدوں کے علاوہ مزید کام کیا  اب ریاست کی عوام اُنہیں دنوں کی واپسی کی راہ دیکھنے لگی،اب موہن بھاگوت کی باتوں پر عوام توجہ نہیں دے گی،اور مسلمانوں کو چاہئے ایسی باتوں کو اہمیت نا دیں بلکہ دستور ہند میں دئے گئے حقوق کا صحیح استعمال سےفرقہ پرستوں کامنہ توڑ جواب  دےیہی عقل مندی ہے۔کہ دستورہند کے مخالف عزائم رکھنے والی قوتوں کا دستورہند کے دائرے کار میں حاصل حقوق سے جواب دیا جائے۔