خواتین پولیس عملےکو راتوں میں گشت کی ڈیوٹی سے باز رکھاجائے:خواتین تنظیم کا مطالبہ

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ :شیموگہ انتظامیہ کی جانب سے شہر میں ایک ہفتے کیلئے سخت لاک ڈائون کے احکامات جاری کئے گئے ہیں جس کو عملی جامعہ پہنانے کیلئے ضلعی پولیس دن رات سخت محنت کررہی ہے۔ پولیس نے اپنے عملے میں خواتین پولیس کیلئے بھی رات کے وقت ڈیوٹی پر تعیناتی کا حکم دیا گیا ہےیہ مناسب عمل نہیں ہے اس سےمحکمہ پولیس کو بازرہنے کی ضرورت ہے۔ اس بات کا مطالبہ شیموگہ مہیلا ویدیکے سکریٹری اورو جئے کرناٹکا مہیلا یونٹ کی نائب صدر ناگرتنما وائی ایس نے کیاہے۔انہوں نے اس سلسلے میں ضلعی نگران کار وزیر کے ایس ایشورپا،ڈپٹی کمشنر کے بی شیوکمار، ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بی ایم لکشمی پرساد، سی ای او ایم ایل ویشالی کو یادداشت پیش کی ہےاورمطالبہ کیا ہے کہ خواتین پولیس عملے کی خدمات کو صرف دن تک ہی محدود رکھاجائے۔ ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بی ایم لکشمی پرسادکے حکم پر ، ڈی وائی ایس پی نے بتایا کہ شیموگہ سب ڈویژن کی خاتون پولیس اہلکاروں کو رات میںگشت لگانے کی ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا ہے ۔ یہ حکم نامہ یکم جون سے 3೦ جون تک نافذ ہوگا۔ یہ حیرت کی بات ہے کہ واحد شہرشیموگہ کیلئے ہی یہ احکامات صادر کئے گئے ہیں ۔لیکن خواتین عملے کی خدمات دن کے وقت کسی بھی جگہ ،کہیں بھی لی جاسکتی ہے لیکن رات کے وقت انکی خدمات کا استعمال غیر مناسب ہے۔پولیس کے بندوبست میں خواتین عملے کورات کے وقت  گشت کی ڈیوٹی پر تعینات کرنا ان سے خدمات لیناغیر انسانی عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی نظر میں یہ خواتین بھی پولیس ہی ہیں یہ بات حقیقی ہے لیکن ان کے بھی اپنے حدود ہیں اور اس سے بڑھ کر یہ بھی قابل اعتراض ہے کہ ان کیلئے رات کے وقت اسٹیشن کے باہر کام کرنا کتنا ٹھیک ہے ۔ اس کے علاوہ خواتین عملے کو رات کے وقت خدمات نہیں لینے کے بہت سارے ذاتی مسائل بھی ہیں ۔مثلا ًچھوٹےبچوں کی پرورش، گھر کے بڑوں کی خدمات جیسےبہت سی ذاتی ذمہ داریوں کا خیال رکھنا بھی ہوتا ہےبیک وقت دونوں ذمہ داریاں نبھانا ان کیلئےناممکن ہے۔اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ موجودہ خواتین پولیس فورس کو دئے گئے پولیس آرڈر واپس لیا جائےاور ان سے دن میں ہی خدمات لی جائیںگے۔