شیموگہ : دنیا بھر میں مشہور جوگ فالس کی خوبصورتی کومزید خوبصورت اورپرکشش بنانےکیلئے 160کروڑکی لاگت پر ترقی کی جارہی ہے ۔اس بات کا اظہاررکن پارلیمان بی وائی راگھویندرا نے کیا ہے۔ انہوں نےڈپٹی کمشنر دفتر میں جوگ فالس کی ترقی اورشہرکے سیہادری کالج کے احاطے میں 65 کروڑ کی لاگت سےبین الاقوامی طرز پرآئوٹ ڈور اور انڈور اسٹیڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں وزیربرائے دیہی ترقیات وپنچایت راج اورضلعی نگران کار وزیر کے ایس ایشورپا کی صدارت میں خصوصی تبادلہ خیال کیاگیا۔ انہوں نے معلومات دی کہ سیاحوں کیلئےبروز ہفتہ ، اتوا راور تہوار وں کے ایام میں آبشار کا نظارہ کرنے کا موقع دیا جاتا ہےاور اس عرصےمیں ڈیام کے ذریعہ فالس میں پانی چھوڑنے سے بجلی کی پیداوار میں 5 کروڑ کا خصارہ اٹھانا پڑسکتاہے جس کی ادائیگی کیلئے محکمہ سیاحت اورکے پی ٹی سی ایل کے درمیان معاہدہ کیاجائے گا۔ تمام کاموںکیلئے اگلے 2 سال کا عرصہ درکار ہوگا۔ توقع ہے کہ کاموں کی تکمیل کے بعد یہاں روزانہ تقریباً 20ہزار سیاحوں کی ضلع شیموگہ میں آمد ہوسکتی ہے۔مزید ساگرکےآس پاس واٹراسپورٹس کیلئے بھی موقع دیا گیا ہےاس کے علاوہ دوسرے مقامات جیسے سکرےبیل،اکامہادیوی کی جائے پیدائش مقام، شہر کا قلعہ اور شیواپانائک کا محل جیسےدیگر مقامات کی بھی ترقی کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ اس سے ضلع میں سیاحت کیلئے وسیع مواقع میسر ہوںگے اور ملازمت کے مواقع بھی بڑھیں گے اور اسطرح لوگوں کا معیار زندگی بھی بہتر ہوگا۔نشست صدرات کررہے وزیر نگران کار ایشورپا نے کہا کہ انٹرنیشنل سطح پر تعمیر ہورہے اسٹیڈیم کی ملکیت کوئمپویورنیورسٹی کے ذمہ میں ہوگی اور اسٹیڈیم کے انتظام کیلئے ریاستی حکومت سے مالی امداد طلب کی جائےگی۔ موجودہ سیہادری کالج کی کمرشل سرگرمیوںمیں بغیر رکاوٹ کے ہاسٹل کیلئے ضروری عمارتوں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئےاقدامات اٹھائے جائیں گے۔سیہادری کالج کے احاطے میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے تعاون سے 65 کروڑ روپئے کی لاگت سےانٹرنیشنل ماڈل پر انڈور اور آؤٹ ڈور اسٹیڈیم بنایا جائے گا۔ اس اسٹیڈیم سے ضلع کے باصلاحیت کھلاڑیوں کو فائدہ ہوگا ۔نشست میں بتایا گیا کہ لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل درآمد کے بعد ، شہر ی، اور دیہی علاقوں میں عوامی نقل وحمل میں 95 فیصد کمی ہوئی ہےاورمریضوں کی تعداد میںبھی نمایاں بہتری آئی ہے۔
