جذبۂ قوم،قرآن اور رسول

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
سویڈن اور ڈنمارک میں قرآن شریف کو آگ لگانے کی خبریں آرہی ہیں،اس تعلق سے دنیاکے مختلف مسلم ممالک نے صرف تنقیدکی ہے اور ان ممالک کے خلاف کسی بھی طرح کی کارروائی کرنے کا اظہاربھی نہیں کیاہے۔توہین رسالت کے بعد قرآن پاک کی توہین کی وارداتوں کا سلسلہ تیز ہوچکاہےاور اس طرح کی وارداتوں کو انجام دینے میں مختلف ممالک اپنے آپ کو سرفہرست پیش کررہے ہیں۔اس وقت دنیاکے نقشے میں57 اسلامی ممالک موجودہیں اور ان ملکوں کے ذریعے سے ہمیشہ اسلام کی دفاع کا دعویٰ کیاجاتارہاہے۔لیکن اس وقت جو صورتحال دیکھی جارہی ہے وہ ا س بات کی دلیل ہے کہ اسلامی ممالک صرف عہدوں اور حکومتوں تک محدودہوچکے ہیں،ان میں قرآن کی عظمت اورعظمتِ رسالت کا جذبہ ناپید ہوچکاہے۔کبھی مسلمان قرآن اور نبیﷺکیلئے مرمٹنے کیلئے تیارہواکرتے تھے،آج وہی مسلمان اور حکومتیں ٹٹو بن چکی ہیں،جس کا جیتا جاگتا ثبوت ہمیں اپنی آنکھوں سے دیکھنے کو مل رہاہے۔جس وقت اسامہ بن لادن نے امریکہ پر حملہ کیاتھا تو اُس وقت افغانستان پر یہ کہہ کر حملہ کیاگیاکہ اسامہ بن لادن افغانستان میں چھپا بیٹھاہےا ور افغانستان پر حملہ کرتے ہوئے القاعدہ کو ختم کیاجائیگا۔یہ بات اور ہے کہ اسامہ بن لادن کومارنے اور القاعدہ کو ختم کرنے میں امریکہ کو سالوں سال لگ گئے،لیکن اس وقت سویڈن اور ڈنمارک جیسے چیونٹی کی حیثیت رکھنےوالے ممالک کے خلاف طاقتور اور سوپر پائو ر اسلامی حکومتیں چوہوں کی طرح بل میں گھس کر چوں چوں کررہے ہیں۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان اسلامی ممالک میں کچھ کرنےکا جذبہ ختم ہوچکاہے اور اب وہ صرف نام کے مسلم قائدین ہیں۔اگر سعودی،یوای اے ،قطر جیسے ممالک چاہیں تو ان دو چھوٹے ممالک کو آن کی آن میں ختم کرسکتے ہیں،مگر یہ کام نہیں کیاجارہاہے،کیونکہ خود ان ممالک کے حکمرانوں میں جذبۂ اسلام ناپید ہوچکاہے۔یہ بات ہوئی انٹرنیشنل سطح کی،مگر بھارت میں بھی اس وقت مسلمانوں کی طرف سے ان معاملات میں کھل کر احتجاج نہیں ہورہاہے۔چند ایک تنظیمیں قرآن پاک کی عظمت کو بحال رکھنے کیلئے احتجاجات کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں،لیکن مسلمانوں کی نمائندہ تنظیمیں مانی جانےوالی اہم تنظیمیں اس وقت کہیں دو ر چلی گئی ہیں اور وہ آنےوالے پارلیمانی انتخابات کی تیاریوں میں لگ گئی ہیں،بعض مسلم قائدین آر ایس ایس کے ساتھ سمجھوتے کرنے میں لگی ہوئی ہیں تو بعض مسلم قائدین حکمت کے نام پر صبرکرنے کی تلقین دےرہے ہیں۔اندازہ لگائیں کہ اس وقت مسلم قائدین کے دلوں میں قرآن اور عظمتِ رسالت کو لیکر کس قدر جذبہ ہے۔افسوس اس بات ہے کہ کھلے عام قرآن مجیدکی توہین کئے جانے کے باوجود بھی بھارتی مسلمانوں کی جانب سے سویڈین اور ڈنمارک کی حکومتوں کے خلاف لب کشائی نہیں کی جارہی ہے۔یقیناً ہماری مسلم تنظیمیں سعودی یا دوسرے اسلامی ممالک کے خلاف کچھ نہیں کہیں گے،کیونکہ اُنہیں معلوم ہے کہ اگر ان حکومتوں کے خلاف کمربستہ ہوجائینگے تو اُنہیں ملت اور مدرسوں کے نام پر ملنےوالے چندے بند ہوجائینگے،لیکن کیا ڈنمارک اور سویڈین سے بھی یہ لوگ چندوں کی اُمیدرکھ رہے ہیں ،جو ان توہین آمیز حرکتوں پر خاموشی کامظاہرہ کررہے ہیں۔مسلمانوں کے ان ہاتھی نما لیڈروں کو تو چھوڑئیے،عام مسلمانوں نے بھی اس سمت میں کچھ کہنا یا کرنا ضروری نہیں سمجھا،البتہ سوشیل میڈیامیں ان خبروں کو تیزی کے ساتھ پھیلا پھیلا کر اپنے اسلامی جذبے کا ثبوت پیش کررہے ہیں۔یقیناً یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے،لیکن کیا مسلمان اسی دور میں قیامت کی نشانیوں کومسلط کرنے کیلئے تیاری کررہے ہیں۔