کانگریس پارٹی میں وزیراعلیٰ عہدے کیلئے 10 دعویدار؛جس میں بھی شامل: پرمیشور

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔کانگریس کے سینئرلیڈر جی پرمیشور نے تسلیم کیا کہ اپریل مئی میں ہونے والے کرناٹک اسمبلی انتخابات کے بعد پارٹی کے اقتدار میں آنے کی صورت میں وہ وزیراعلیٰ کے عہدے کے دعویداروں میں شامل ہیں۔ پانچ مرتبہ کے ایم ایل اے پرمیشور نے کہا کہ پارٹی کے الیکشن جیتنے کے بعد پارٹی ہائی کمان اگلے وزیراعلیٰ کے بارے میں فیصلہ کرے گا اور کہا کہ موقع دئیے جانے کی صورت میں وہ تیار ہیں۔کرناٹکاپردیش کانگریس صدر ڈی کے شیوکمار اور پارٹی لیجسلیچر کے قائد سدارمیا کانگریس کے اقتدار میں آنے کی صورت میں پہلے سے ہی وزیراعلیٰ عہدے کی امیدیں رکھے ہوئے ہیں اور اپنی امیدوں کو لے کر کافی پرامید بھی ہیں۔کانگریس کے اقتدار میں آنے پر ایک دلت کو وزیراعلیٰ بنائے جانے کے امکانات کے تعلق سے پوچھے گئےسوال پر پرمیشور نے کہا، ہم کسی کو ذات کی بنیاد پر وزیراعلیٰ نہیں بناتے ہیں، اس وقت کی صورت میں جو بھی اہل ہوتا ہے، جو بھی پارٹی کی مہم اور اس کے اقدار کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کی ہی بنیاد پر وزیراعلیٰ منتخب کیا جاتا ہے۔ اس کا انتخاب اس کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا ہے کہ کوئی دلت ہے یا دیگر ذات سے ہے۔وزیراعلیٰ عہدے کی ان کی امید کے بارے میں پوچھے جانے پر ، پرمیشور نے کہا کہ میں سیاست کیوں کررہا ہوں؟ اقتدار میں آنے کے لیے۔۔۔سبھی کی امیدیں ہوتی ہیں، ہماری پارٹی میں تقریباً 10 لوگوں کو امید ہے، میں بھی انہیں میں سے ایک ہوں۔پرمیشور، ایک دلت ہیں، ایچ ڈی کمارسوامی کی قیادت والی کانگریس-جے ڈی (ایس) مخلوط حکومت کے دوران وہ نائب وزیر اعلیٰ تھے۔ وہ کے پی سی سی کے سب سے طویل سربراہ (آٹھ سال) بھی رہ چکے ہیں اور ایڈیلیڈ یونیورسٹی کے ویٹ ایگریکلچرل ریسرچ سنٹر سے پلانٹ فزیالوجی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ پرمیشور نے کہا کہ کانگریس پارٹی کے امکانات بہت اچھے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ پارٹی 100 فیصد حکومت بنائے گی اور تمام سروے بھی ہمیں آگے دکھا رہے ہیں۔