سپریم کورٹ نے ‘بلٹ ٹرین کو بتایا قومی پرجیکٹ، اپیل کی خارج

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔ بلٹ ٹرین پروجیکٹ کیلئے اراضی کی تحویل کے معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ ایک قومی پروجیکٹ ہے۔ سپریم کورٹ نے زمین کی تحویل کو برقرار رکھنے کے بامبے ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف گودریج اینڈ بوائس کی اپیل کو خارج کر دیا۔ سپریم کورٹ نے کمپنی کو یہ لیبرٹی ضرور دی کہ معاوضہ بڑھانے کیلئے متعلقہ اتھاریٹی کو عرضی دے سکتے ہیں ۔ دراصل ہائی کورٹ میں گودریج اینڈ بوائس نے ممبئی ۔ احمد آباد بلٹ ٹرین پروجیکٹ کیلئے وکرولی میں مہاراشٹر سرکار اور این ایچ ایس آر سی ایل کے ذریعہ شروع کئے گئے تحویل پروسیس کو چیلنج کیا تھا ۔ ہائی کورٹ نے بھی اراضی تحویل کو صحیح قرار دیا تھا ۔ کمپنی نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا ۔سی جے آئی چندر چوڑ نے گودریج اینڈ بوائس کی نمائندگی کرنے والے وکیل مکل روہتگی سے کہا کہ پانی بہت بہہ چکا ہے، قبضہ لے لیا گیا ہے اور تعمیرات شروع ہوچکی ہیں، آپ معاوضہ میں اضافہ کیلئے درخواست دے سکتے ہیں ۔ دراصل بامبے ہائی کورٹ نے سماعت کرتے ہوئے اس بات کو صحیح پایا تھا کہ اس پروجیکٹ کیلئے اراضی کو حاصل کرتے وقت کوئی بے قاعدگی یا غیر قانونی کام نہیں کیا ۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ذاتی مفادات سے بڑا عوامی مفادات ہے، یہ قومی مفادات سے وابستہ معاملہ ہے ۔یہ معاملہ ممبئی ۔ احمد آباد بلٹ ٹرین پروجیکٹ کے تحت اراضی کی تحویل کا ہے ۔ بامبے ہائی کورٹ نے سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اراضی کی تحویل کے دوران کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا گیا ہے ۔کمپنی کے ذریعہ بامبے ہائی کورٹ کے سامنے عرضی داخل کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اراضی کی تحویل کیلئے کارروائی 2019 میں شروع کی گئی ۔ 2020 میں ختم ہوگئی تھی ۔ ایک طویل عرصہ لگا لہذا دئے گئے معاوضہ کی رقم مناسب نہیں ہے ۔