
شیموگہ:۔روزنامہ آج کاانقلاب،سُودھی بھارتی،انقلاب نیوز اور اسوسیشن آف مسلم گرائجوئٹس کے اشتراک سے شہرمیں تاریخی پروگرام بعنوان قائد اور قیادت منعقد کیا گیا تھا جس میں شہرشیموگہ کے مختلف سیاسی ،ملی اور سماجی تنظیموں کے نمائندے شریک رہے۔اس موقع پر مہمان خصوصی کے طورپر شرکت کرنےوالے مولانا عبدالغفارحامد عمری نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قیادت کیلئے سفید کپڑے کافی نہیں ہیں بلکہ شجاعت کی ضرورت ہے اور قائد وہی بن سکتا ہے جس کے پاس احساسات اور ذمہ داری ہو۔ملتِ اسلامیہ کبھی بھی قائدکے بغیر نہیں ہے لیکن ہم نے قائد کی نشاندہی کرنے میں کوتاہی کی ہے۔مزید انہوں نے کہاکہ ہمارے لئے سب سے بہترین قائدین ہمارے نبی ﷺ ہیں،جنہوں نے پوری زندگی میں مسلمانوں کو ہر مرحلے کیلئے قیادت کی تعلیمات دی ہیں ، سماجی،سیاسی،دینی ،ملی اور انسانی حلقوں میں کس طرح سے قیادت کی جاسکتی ہے اس پر نبی کریمﷺ کی تعلیمات موجودہیں۔آج اُمت مسلمہ کو مختلف معاملات میں الجھایاجارہاہے جس میں حجاب ، اذان،حلال جیسے مدعے شامل ہیں،ان مدعوں میں الجھا کر مسلمانوں کو حقیقی معاملات سے بھٹکایاجارہا ہے ۔ہم جذباتی ہونے کے بجائے اس ملک پر اپنا حصہ قائم کرنے کیلئے آگے آتے ہیں تو کامیابی مل سکتی ہے، موجودہ وقت میں قیادت کرنےوالے اکثرلوگوں کا کوئی مقصدنہیں ہے ، اجتماعی مقاصد کو نظراندازکرتے ہوئے انفرادی مفادات کی تکمیل کیلئے لیڈرشپ کااستعمال کیاجارہاہے،صحیح اور غلط کی نشاندہی کرنے کے بجائے اندھے بن کر دوسروں کی پیروی کررہے ہیں ، جسے قائد بنناہے اُسے چاہیے کہ وہ عوام اور عوامی مسائل کو جانتے ہوئے اُن کے ساتھ محبت کے ساتھ پیش آئیں،تبھی اُس میں قائدانہ صلاحیت پیدا ہوسکتی ہے ۔ بھارت میں اس وقت عدلیہ،جمہوریت اور انتظامیہ تمام کے تمام خطرے میں ہیں،ان حالات میں مسلمان اپنی قیادت کو مضبوط کرتے ہوئے باہمی تال میل قائم کرتے ہوئے اپنوں کے درمیان سے قیادت کو ابھاریں ۔ ہمیں لانگ ٹرم پروگرام کے تحت کام کرناہے،مختصر پیسوں کی بنیاد پر اپنے آپ کوفروخت نہیں کرنا چاہیے۔اس موقع پرایم جی گروپس کے چیرمین انجینئر محمد ابراہیم نے بات کرتے ہوئے کہاکہ آج مسلمانوں کی باہمی کمزوریوں کی وجہ سے سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہیں اور ہر کوئی مسلمانوں کو نظرانداز کررہا ہے ۔جس کی وجہ سے مسلمان اپنے آپ کو کمزور سمجھنے لگے ہیں۔درحقیقت مسلمان یہ بھول چکے ہیں کہ وہ ایمان والے ہیں اور انہیں قیادت کس طرح سے کرنی ہے اس کا نظریہ قرآن پاک میں پیش کیاگیاہے۔قرآن کی سورۃ شوریٰ میں اللہ تعالیٰ نے تفصیلی طورپر کہاہے کہ کس طرح سےانسانوں کو امامت کرنی چاہیے اور ایک امام کی کیا صلاحیتیں ہونی چاہیے، ہمیں قرآن پاک کو تھام کر اپنے آپ کو قیادت کے لائق بنانے کی ضرورت ہے۔قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اگرتم میں اختلافات آجائیں تو آپس میں جھگڑنے کے بجائے معاملات کو اللہ کے حوالے کریں، اگر اللہ چاہتاتو تمام کو ایک ہی جماعت میں شامل کرتا ، لیکن اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو صحیح اور غلط کی پہچان کرنے کی صلاحیت دی ہے جس کی بنیادپر وہ صحیح راستے کو اختیارکرسکتے ہیں۔مزید انہوں نے کہاکہ مسلمانوں نے مسجدوں کو نماز کی حد تک محدود کرلیاہے،اگرمسلمان مسجدوں میں اپنے مسائل کوباہمی طورپر حل کرنے کیلئے مشورےکرینگے ،مسجدوں کو روزمرہ کے معاملات کے حل کیلئے علیحدہ حلقے میں استعمال کرنے لگے تو مسلمانوں کے کئی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔اس وقت فرقہ پرست کے تعلق سے ہم بات کررہے ہیں لیکن حقیقی طورپر دیکھا جائے تو خود مسلمان ایکطرح سے فرقہ پرست بن چکے ہیں،ان کی مسجدیں الگ ہیں،جھنڈے الگ ہیں ، ٹوپیاں الگ ہیں ایسے میں دوسروں کو فرقہ پرست کیسے کہا جاسکتاہے ۔ہماری اپنی کمزوریوں کی بنیادپر مسلمان ناکام ہورہے ہیں،ہمیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئےا حکامات کی پیروی کریں اور اللہ کے رسول ﷺکے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کریں ہماری قیادت پر کوئی انگلی نہیں اٹھاسکتا۔اس موقع پر روزنامہ آج کا انقلاب کے ایڈیٹر مدثراحمدنے بات کرتے ہوئے کہا کہ روزنامہ آج کا انقلاب صرف اخبارنہیں بلکہ ایک تحریک ہے جو اُمت مسلمہ میں تعلیمی،سماجی،سیاسی،معاشی معاملات کے تعلق سے بیداری لانے کیلئے وقتاً فوقتاً بیداری پروگرامس منعقد کررہا ہے،پچھلےتیرہ سالوں سے جو کام کیاگیاہے اس سے بڑی حد تک تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔اس جلسے کی صدارت سونا گروپس کے چیرمین اقبال حبیب سیٹھ نے انجام دی،مہمانوں کا استقبال اورشکریہ روزنامہ آج کاانقلاب کے پبلیشرمحمدلیاقت نے کیا،جلسے کاآغاز حافظ محمد فیضان کی تلاوت سے ہوا،جبکہ حمد باری تعالیٰ الحبیب اسکول کی طالبہ زینب بی اور نعت شریف پیسٹ کالج کے انجینئرنگ کے طالب العلم محمدجنیدنے پیش کیا۔
