شجرکاری ، سبزکاری اور جنگلات کی آبادکاری کا ہے اسلام میں ہے حکم , لیکن مسلمان کہاں ہیں ؟

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نیشنل نیوز

شیموگہ:۔دنیابھر میں اس وقت یوم ماحولیات منایا جارہا ہے اور کئی تنظیمیں و ادارے یوم ماحولیات کے مدنظر شجر کاری ، سبزکاری کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں لیکن وہ مسلمان جن کے لئے سبزکاری اور شجرکاری ثواب جاریہ کا مقام اور سنت عمل رکھتاہے وہ اس کام سے بالکل دور نظر آرہے ہیں اور اپنے آپ کو دوسر ی دنیا کی مخلوق بنابیٹھے ہیں ۔ ویسے دیکھا جائے تو لاک ڈائون میں کم و بیش ہر شخص فارغ ہے اور کسی کے پاس کوئی کام نہیں ہے ایسے میں وہ اپنے خالی اوقات کو شجر کاری کرنے کے لئے صرف کرسکتے ہیں لیکن شاید ہی اس سمت میں کوئی دلچسپی رکھتاہو۔ نوجوان نسل جو سیو ٹری ۔ گرو فاریسٹ کا نعرہ سوشیل میڈیا پر لگارہی ہے اور ماحولیات کے تعلق سے اپنے واٹس اپ اور فیس بک اسٹیٹس چپکاتے ہوئے گھوم رہے ہیں اگر وہ اس معاملے میں پریکٹیکل کچھ کرتے ہیں تو یقیناََ  ماحولیات کے تحفظ میں اہم کام ہوسکتاہے ۔ اس وقت ترقیات کے نام پر مسلسل پیڑوں کی کٹائی اور جنگلات کو نقصان پہنچانے کا کا م تیزہوتاجارہاہے ، سڑکوں  کنارے موجود بڑے بڑے سایہ دار درختوں کا صفایا ہوتاجارہاہے خصوصََا پیپل ، نیم اوربرگد کے پیڑ ناپید ہوتے جارہے ہیں اگر نوجوان نسل ان پیڑوں کو معقول مقامات پر اگانے کاکام کرتے ہیںتو یہ آنے والی نسلوں کے لئے بہت مفیدبات ہوگی ، اندازے کے مطابق ایک انسا ن روزانہ 11 ہزار لیٹر آکسیجن اپنے اندر لیتاہے اور اتنی ہی کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتاہے ، اس وقت آکسیجن کی قیمت وہ لوگ اچھی طرح سے جانتے ہیں جو کورونا کے مریض ہیں اور آکیسجن کو خرید کر حاصل کررہے ہیں ۔ اندازََ آکسیجن کی قیمت فی لیٹر 200 روپئے ہے تو ہر دن ایک عام انسان 22 لاکھ روپئے کی آکسیجن مفت میں قدرت سے لے رہاہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس کے عوض میں عام انسانوں نے قدرت کو کیا دیا ہے اور کتنے پیٹر اُگاکر انسانوںنے ماحول میں آکسیجن کی پیداوار بڑھائی ہے ۔ اس وقت انسان سے بڑھ کر کوئی لالچی نہیں رہاہے اور ہر کوئی اپنے گھر کے سامنے کھلا آنگن دیکھنا چاہتاہے جبکہ گرمی میں وہ ٹھنڈی کا احساس ، اپنی کار یا بائک کھڑا کرنے کے لئے سایہ دار درخت ، بر وقت بارش اور شام کے وقت واکنگ کے دوران ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی امید لگائے ہوئے ہے ، کسی کے پاس اتنی فرصت نہیں کہ گھر کے آنگن میں ایک نیم کا درخت ، محلے کے پارک میں چار پیپل یا نیم کے درخت لگائے ،کسی بھی تنظیم یا ادارے کے پاس فرصت نہیں کہ وہ کھلے سڑکوں  کنارے برگد کے پیڑ لگائے ، سب کو اسمارٹ سڑکیں درکاہیں لیکن اسمارٹ جنگل بناناکسی کو پسند نہیں ہے ۔ دوسری طرف مسلمان ماحولیات کے تحفظ میں سب سے زیادہ پیچھے ہیں ، اسلام نے پیڑوں کو لگانا ثواب جاریہ کا عمل قرار دیا ہے ، اسلام نے پیڑوں کو کاٹنے سے منع کیا ہے اور یہاں تک کہ حدیث نبویﷺ میں ہے کہ اس وقت تک پیڑ لگاتے رہو جب تک کہ قیامت کی صبح کو نہ دیکھ لو ۔جب پیڑ پودوں کے تعلق سے ، ماحولیات کو بچانے کے لئے تعلق سے اسلام نے اتنی اچھی بات کہی ہے تو مسلمان پیچھے کیوں ہیں ؟۔ کیا ہمارے نزدیک ثواب جاریہ صرف کھاناپکاکر کھلاناہے یا پھر کسی کو کچھ پیسے دے دینا ہی ثواب کا عمل ہے ؟۔ نہیں ہے تو اس بہترین کام کو مسلمان کیوں انجام نہیں  دے رہے ہیں اور ہمارے ملی و دینی ادارے ان کاموں کو تحریک کی شکل میں کیوں نہیں انجام دے رہے ہیں اور اہل علم حضرات اس ثواب جاریہ کے عمل کو عام کیوں  نہیں کروارہے ہیں ؟۔ اب بارش کا موسم شروع ہونے والاہے ایسے میں مسلمان اپنے اپنے علاقوں میں اس کار خیر کو انجام دیں ، بڑے پیمانے پر نہ صحیح چھوٹے چھوٹے پیمانے پر اپنے گھر وں کے سامنے شجر کاری کا آغاز کریں ، صرف دو سال ان درختوں کی حفاظت کریں پھر دیکھیں کہ کیسے ماحولیات میں تبدیلی اور گھروں میں سکون آتا ہے ۔