بنگلورو:۔ قریب پچھلے چار دہوں سے ریاست کرناٹک میں بی جےپی کو مستحکم اور مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرنےو الا جوڑا یڈیورپا اور ایشورپا سیاسی حالات کے چلتے سرگرم سیاست سے علاحیدگی اختیار کرنےپر مجبور ہوگئے ہیں۔چار دہے پہلے جب قریہ قریہ میں اندراگاندھی اور کانگریس کا جھنڈا لہراتا دیکھ کر عوام کو پتہ ہی نہیں تھا کہ بی جےپی کا کیا مطلب ہے، یہ کن کی پارٹی ہے۔ اس وقت بی جےپی کی تشہیر کےلئے گاؤں گاؤں پہنچنے والوں میں صرف تین ہی نام ایسے تھے جو آج بھی سنے جاسکتے ہیں۔ یڈیوریا، ایشورپا اور اننت کمار۔ آج بھی بی جےپی کا مطلبہ یڈیورپا اور ایشورپا ہی مانا جاتاہے۔ کرناٹک کی سیاست میں بی ایس یڈیورپا اور کے ایس ایشورپا بڑے نام گنوائےجاتے ہیں خاص کر بی جےپی میں یہی دونام اہم مانے جاتےہیں۔ الگ الگ گاؤں سے شیموگہ پہنچ کر گھوم پھر کر بی جےپی کی جڑیں مضبوط کرنے اور اس کو عوامی سطح پر مقبول و معروف بنانےمیں ان دونوں کا اہم کردار رہاہے۔ اب دونوں نے بیک وقت انتخابی سیاست کو الوداع کہہ دیا ہے۔ ریاست کی بی جےپی میں دو بڑے اہم نام پردے کےپیچھے چلے گئے ہیں۔ گرچہ دونوں کہہ رہے ہیں کہ ہم انتخابات نہیں لڑیں گے ریاست بھر میں گھوم پھر کر بی جےپی کو دوبارہ برسراقتدار لائیں گے لیکن سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں کاکہنا ہے پورا فائدہ حاصل کرنے کے بعد بی جے پی کے اعلیٰ کمان نے دونوں کو خاموشی کے ساتھ کنارے کردیا ہے اورتجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ دونوں کو انتخابی سیاست سے پیچے ہٹانا بی جے پی کو مہنگا پڑسکتا ہے کیونکہ کھلے عام نہ سہی خاموشی کے ساتھ دونوں لیڈران اپنے کو پیچھے ہٹانے پر بدلہ لے سکتے ہیں۔بی ایس یڈیورپا کا وطن منڈیا ضلع کے بوکن کیرے ہے تو کے ایس ایشورپا ضلع بلاری سے تعلق رکھتےہیں۔ دونوں آر ایس ایس سے تعلق رکھتےہیں دونوں نے شیموگہ پہنچ کر اپنا وجو د منوایا تھا۔ یڈیورپا نے ہمیشہ کسانوں اورعوامی مسائل کو پیش کرتےہوئے پارٹی کو مضبوط و مستحکم کرنے کا کام کیا تو ایشورپا نے ہندوتوا کا راستہ اپناتے ہوئے بی جے پی میں اپنی جگہ بنائی تھی۔دونوں کاتعلق غریب خاندان سےتھا۔ دونوں کو کئی مرتبہ لوگوں نے ایک ساتھ اسکوٹر پرپارٹی کا پرچار کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ اسی طرح دونوں بھی تجارت میں حصہ دار تھے ساتھ ہی سیاست میں اعلیٰ مقام کی طرف بڑھتے گئے۔ جیسے جیسے اقتدار، حیثیت اور عہدوں میں بڑھتے گئے اسی طرح دونوں کی دوریاں بھی بڑھتی گئیں۔لڑکے لڑیں گے انتخابات: یڈیورپا کے پیچھے ہٹنے کے بعد ان کا بیٹا وجئیندرا اب ان ہی کے حلقہ شکاری پورسے انتخاب لڑیں گے۔ جب کہ دوسری طرف ایشورپا کے بیٹے کانتیش کو شموگہ سے بی جے پی کی ٹکٹ دی گئی ہے۔
